تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 54
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۵۴ سورة الحاقة ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّ لِله تَعَالَى صِفَاتٍ پھر واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات ذاتی ہیں جو اس ذَاتِيَةٌ نَاشِيَةٌ مَنِ افْتِضَاء ذَاتِهِ وَعَلَيْهَا کی ذات کے تقاضا سے پیدا ہونے والی ہیں اور انہیں پر مَدَارُ الْعَالَمِيْنَ كُلِّهَا وَهِيَ أَرْبَعُ رَبُوبِيَّةٌ سب جہانوں کا مدار ہے اور وہ چار ہیں۔ربوبیت، وَرَحْمَانِيَّةٌ وَرَجِيْبِيَّةٌ وَمَالِكِيَّةٌ كَمَا أَشَارَ ،رحمانیت، رحیمیت، مالکیت۔جیسا کہ اللہ تعالی نے اس الله تَعَالَى إِلَيْهَا في هذِهِ السُّورَةِ وَقَالَ سورة ( فاتحہ ) میں ان کی طرف اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔الدِّينِ فَهَذِهِ الصَّفَاتُ الذَّاتِيَّةُ سَابِقَةُ پس یہ ذاتی صفات ہر چیز پر سبقت رکھتی ہیں اور ہر چیز پر عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَمُحِيطَةٌ بِكُلِّ شَيْءٍ وَمِنْهَا محيط ہیں۔تمام اشیاء کا وجود، ان کی استعدادیں، ان کی وُجُودُ الْأَشْيَاء وَاسْتِعْدَادُهَا وَقَابِلِيَّتُهَا قابلیت اور ان کا اپنے کمال کو پہنچنا انہیں صفات کے ذریعہ وَوُصُوْلُهَا إِلى كَمَالَاتِها وَأَمَّا صِفَةُ سے ہے۔لیکن غضب کی صفت خدا تعالیٰ کی ذاتی صفت الْغَضَبِ فَلَيْسَت ذَاتِيَّةٌ لِله تَعَالى بَل نہیں ہے بلکہ وہ بعض موجودات کے مطلقا کمال قبول نہ هِيَ نَاشِيَةٌ مِنْ عَدَمِ قَابِلِيَّةِ بَعْضٍ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور اس طرح گمراہ الْأَعْيَانِ لِلْكَمَالِ الْمُطلق وَكَذَلِكَ صِفَةُ ظہرانے کی صفت کا ظہور بھی گمراہ ہونے والوں میں کبھی الْإِضْلَالِ لَا يَبْدُو إِلَّا بَعْدَ زَيْجُ الضَّالِّین پیدا ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے۔وَأَمَّا حَضُرُ الصَّفَاتِ الْمَذْكُورَةِ فِي لیکن صفات مذکورہ کا حصر چار کے عدد میں اس عالم کو الْأَرْبَعِ فَنَظَرًا عَلَى الْعَالَمِ الَّذِي يُوجَدُ مد نظر رکھ کر ہے جس میں ان صفات کے آثار پائے جاتے فِيْهِ آثَارُهَا أَلَا تَرَى أَنَّ الْعَالَمَ كُلَّه ہیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ عالم سارے کا سارا بزبانِ يَشْهَدُ عَلى وُجُوْدِ هَذِهِ الصَّفَاتِ بِلِسَانِ حال ان چاروں صفات کے وجود پر شہادت دے رہا ہے الْحَالِ وَقَد تَجَلَّتْ هذهِ الصَّفَاتُ بنخولا اور یہ چاروں صفات اس طور پر جلوہ افروز ہیں کہ کوئی يَشُكُ فِيْهَا بَصِيرٌ إِلَّا مَنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ صاحب بصیرت ان میں شک نہیں کر سکتا سوائے اس کے عَمِينَ۔وَهُذِهِ الصَّفَاتُ أَرْبَعُ إِلَى الْقِرَاضِ جو اندھوں میں سے ہو اور یہ صفات اس دُنیا کے اختتام تک النَّشْأَةِ الدُّنْيَوِيَّةِ ثُمَّ تَتَجَى مِن تَحْتِهَا چار کی تعداد میں ہی رہیں گی پھر ان ہی میں سے چار اور أَرْبَعُ أُخْرَى الَّتِي مِن شَأْتِهَا أَنَّهَا لَا تَظْهَرُ صفات جلوہ گر ہوں گی جن کی شان یہ ہے کہ وہ دوسرے الفاتحة : ۲ تا ۴