تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 54

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ولد سورة الحاقة ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّ لِلهِ تَعَالَى صِفَاتٍ پھر واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات ذاتی ہیں جو اس ذَاتِيَةً نَاشِيَةً مِّنِ اقْتِضَاء ذَاتِهِ وَعَلَيْهَا کی ذات کے تقاضا سے پیدا ہونے والی ہیں اور انہیں پر مَدَارُ الْعَالَمِينَ كُلِّهَا وَهِيَ أَرْبَعُ رَبُوبِيَّةٌ سب جہانوں کا مدار ہے اور وہ چار ہیں۔ ربوبیت، وَرَحْمَانِيَّةً وَرَحِيمِيَّةٌ وَمَالِكِيَّةٌ كَمَا أَشَارَ ،رحمانیت، رحیمیت، مالکیت۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس اللهُ تَعَالَى إِلَيْهَا فِي هَذِهِ السُّورَةِ وَقَالَ سورۃ فاتحہ ) میں ان کی طرف اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ۔ الدِّينِ ، فَهَذِهِ الصَّفَاتُ الذَّاتِيَّةُ سَابِقَةٌ پس یہ ذاتی صفات ہر چیز پر سبقت رکھتی ہیں اور ہر چیز پر عَلى كُلِّ شَيْءٍ وَمُحِيطَةٌ بِكُلِّ شَيْءٍ وَمِنْهَا محیط ہیں ۔ تمام اشیاء کا وجود، ان کی استعداد میں، ان کی وُجُودُ الْأَشْيَاء وَاسْتِعْدَادُهَا وَقَابِلِيَّتُهَا قابلیت اور ان کا اپنے کمال کو پہنچنا انہیں صفات کے ذریعہ وَوُصُولُهَا إِلى كَمَالَاتِهَا وَأَمَّا صِفَةُ سے ہے۔ لیکن غضب کی صفت خدا تعالیٰ کی ذاتی صفت الْغَضَبِ فَلَيْسَتْ ذَاتِيَّةً لِلهِ تَعَالَى بَل نہیں ہے بلکہ وہ بعض موجودات کے مطلقاً کمال قبول نہ هِيَ نَاشِيَةٌ مِنْ عَدَمِ قَابِلِيَّةِ بَعْضِ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور اس طرح گمراہ الْأَعْيَانِ لِلْكَمَالِ الْمُطلَقِ وَكَذَلِكَ صِفَةً ٹھہرانے کی صفت کا ظہور بھی گمراہ ہونے والوں میں کبھی الْإِضْلَالِ لَا يَبْدُو إِلَّا بَعْدَ زَيْعُ الضَّالِّين پیدا ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ وَأَمَّا حَصْرُ الصَّفَاتِ الْمَذْكُورَةِ فِي لیکن صفات مذکورہ کا حصر چار کے عدد میں اس عالم کو الْأَرْبَعِ فَنَظَرًا عَلَى الْعَالَمِ الَّذِي يُوجَدُ مد نظر رکھ کر ہے جس میں ان صفات کے آثار پائے جاتے فِيهِ أَثَارُهَا أَلَا تَرَى أَنَّ الْعَالَمَ كُلَّه ہیں ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ عالم سارے کا سارا بزبانِ يَشْهَدُ عَلَى وُجُودِ هَذِهِ الصَّفَاتِ بِلِسَانِ حال ان چاروں صفات کے وجود پر شہادت دے رہا ہے الْحَالِ وَقَدْ تَجَلَّتْ هَذِهِ الصَّفَاتُ بِنَحْوِلا اور یہ چاروں صفات اس طور پر جلوہ افروز ہیں کہ کوئی يَشُكُ فِيهَا بَصِيرٌ إِلَّا مَنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ صاحب بصیرت ان میں شک نہیں کر سکتا سوائے اس کے عَمِينَ وَهُذِهِ الصَّفَاتُ أَرْبَعُ إِلَى انْقِرَاضِ جو اندھوں میں سے ہو اور یہ صفات اس دُنیا کے اختتام تک النَّشْأَةِ الدُّنْيَوِيَّةِ ثُمَّ تَتَجَلَّى مِنْ تَحْتِهَا چار کی تعداد میں ہی رہیں گی پھر ان ہی میں سے چار اور أَرْبَعُ أُخْرَى الَّتِي مِنْ شَأْنِهَا أَنَّهَا لَا تَظْهَرُ صفات جلوہ گر ہوں گی جن کی شان یہ ہے کہ وہ دوسرے لو الفاتحة : ٢ تا ٤