تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 50
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة القلم ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع ہیں اور اسی لیے آپ کل دنیا کے لیے مبعوث ہوئے اور رحمتہ للعالمین کہلائے۔اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ میں بھی اس مجموعہ کمالات انسانی کی طرف اشارہ ہے اسی صورت میں عظمت اخلاق محمدی کی نسبت غور کر سکتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ آپ پر نبوت کاملہ کے کمالات ختم ہوئے۔(حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدت الوجود پر ایک خط صفحہ ۷ مرتبہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِبِينَ وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيْدُ هِنُونَ وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلافٍ مهين و اسلام نے مداہنہ کو کب جائز رکھا اور ایسا حکم قرآن شریف کے کس مقام میں موجود ہے بلکہ اللہ جنشائنہ مداہنہ کی ممانعت میں صاف فرماتا ہے کہ جو لوگ اپنے باپوں یا اپنی ماؤں کے ساتھ بھی ان کی کفر کی حالت میں مداہنہ کا برتاؤ کریں وہ بھی ان جیسے ہی بے ایمان ہیں اور کفار مکہ کی طرف سے حکایت کر کے فرماتا ہے وَ ذُوا لَوْ تُدْهِنُ فید هنون یعنی اس بات کو کفار مکہ دوست رکھتے ہیں کہ اگر تو حق پوشی کی راہ سے نرمی اختیار کرے تو وہ بھی تیرے دین میں ہاں میں ہاں ملا دیا کریں مگر ایسا ہاں میں ہاں ملانا خدائے تعالیٰ کو منظور نہیں۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۱۳) توان مکذبوں کے کہنے پر مت چل جو بدل اس بات کے آرزو مند ہیں کہ ہمارے معبودوں کو برامت کہو اور ہمارے مذہب کی ہجومت کرو تو پھر ہم بھی تمہارے مذہب کی نسبت ہاں میں ہاں ملاتے رہیں گے اور ان کی چرب زبانی کا خیال مت کرو یہ شخص جو مداہنہ کا خواستگار ہے جھوٹی قسمیں کھانے والا اور ضعیف الرائے اور ذلیل آدمی ہے (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۱۷ حاشیہ) هَمَّارٍ مَشَاءٍ بِنَمِيمٍ ﴿ مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ عُتُلٍ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ لا اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ ﴿ إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ايْتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرُطُومِ دوسروں کے عیب ڈھونڈنے والا اور سخن چینی سے لوگوں میں تفرقہ ڈالنے والا اور نیکی کی راہوں سے روکنے والا زنا کار اور بائیں ہمہ نہایت درجہ کا بدخلق اور ان سب عیبوں کے بعد ولد الزنا بھی ہے۔عنقریب ہم اس کے