تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 46

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶ سورة القلم کل انسانوں کے کمالات به هیئت مجموعی ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع ہیں اور اسی لیے آپ کل دنیا کے لیے نبی مبعوث ہوئے اور رحمۃ للعالمین کہلائے اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ میں بھی اسی مجموعہ کمالات انسانی کی طرف اشارہ ہے اسی صورت میں عظمت اخلاق محمدی کی نسبت غور ہو سکتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ آپ پر نبوت کاملہ کے کمالات ختم ہوئے یہ ایک مسلم بات ہے کسی چیز کا خاتمہ اس کی علت غائی کے اختتام پر ہوتا ہے۔ جیسے کتاب کے جب گل مطالب بیان ہو جاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے اسی طرح پر رسالت اور نبوت کی علت غائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوئی اور یہی ختم نبوت کے معنے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک سلسلہ ہے جو چلا آیا ہے اور کامل انسان پر آکر اس کا خاتمہ ہو گیا۔ ہے۔ ریویو آف ریلجز جلد ۳ نمبر ۱ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۱۱، ۱۲) بلحاظ اخلاقی معجزات کے خود اس مقدس نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ کا مصداق رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۸۴) آنحضرت صلعم کے اخلاقی معجزات میں ایک اور معجزہ بھی ہے کہ آپ کے پاس ایک وقت بہت سی بھیڑیں تھیں۔ ایک شخص نے کہا اس قدر مال اس سے پیشتر کسی کے پاس نہیں دیکھا۔ حضور نے وہ سب بھیڑیں اس کو دے دیں۔ اس نے فی الفور کہا کہ لاریب آپ سچے نبی ہیں۔ سچے نبی کے بغیر اس قسم کی سخاوت دوسرے سے عمل میں آنی مشکل ہے۔ الغرض آنحضرت کے اخلاق فاضلہ ایسے تھے کہ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِیمِ قرآن میں وارد ہوا۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۹۹) اخلاقی حالت ایک ایسی کرامت ہے جس پر کوئی انگلی نہیں رکھ سکتا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بڑا اور قوی اعجاز اخلاق ہی کا دیا گیا۔ جیسے فرمایا إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ یوں تو آنحضرت صلعم کے ہر ایک قسم کے خوارق قوت ثبوت میں جملہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات سے بجائے خود بڑھے ہوئے ہیں۔ مگر اخلاقی اعجاز کا نمبر ان سب سے اول ہے جس کی نظیر دنیا کی تاریخ نہیں بتلا سکتی اور نہ پیش کر سکے گی ۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۵۹) سب سے اکمل نمونہ اور نظیر آنحضرت صلعم ہیں جو جمیع اخلاق میں کامل تھے اسی لئے آپ کی شان میں فرما یا إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ - رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۱۵۲) خُلق اور خلق دو لفظ ہیں جو بالمقابل معنوں پر دلالت کرتے ہیں۔ خلق ظاہری پیدائش کا نام ہے جیسے