تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 45

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵ سورة القلم استعمال کرتا ہے تو اس وقت ان کا نام خُلق رکھا جاتا ہے۔اللہ جلشانہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظیم یعنی تو ایک بزرگ خلق پر قائم ہے۔سو اسی تشریح کے مطابق اس کے معنے ہیں یعنی یہ کہ تمام قسمیں اخلاق کی سخاوت ، شجاعت، عدل، رتم، احسان ، صدق، حوصلہ وغیرہ تجھ میں جمع ہیں۔غرض جس قدر انسان کے دل میں قو تیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ادب، حیا، دیانت ، مروت، غیرت، استقامت، عفت، ذہانت، اعتدال، مؤاسات یعنی ہمدردی۔ایسا ہی شجاعت، سخاوت،عفو، صبر، احسان، صدق، وفا وغیرہ جب یہ تمام طبعی حالتیں عقل اور تدبر کے مشورہ سے اپنے اپنے محل اور موقع پر ظاہر کی جائیں گی تو سب کا نام اخلاق ہوگا۔اور یہ تمام اخلاق در حقیقت انسان کی طبعی حالتیں اور طبعی جذبات ہیں اور صرف اس وقت اخلاق کے نام سے موسوم ہوتے ہیں کہ جب محل اور موقعہ کے لحاظ سے بالا رادہ ان کو استعمال کیا جائے۔چونکہ انسان کے طبعی خواص میں سے ایک یہ بھی خاصہ ہے کہ وہ ترقی پذیر جاندار ہے اس لئے وہ بچے مذہب کی پیروی اور نیک صحبتوں اور نیک تعلیموں سے ایسے طبعی جذبات کو اخلاق کے رنگ میں لے آتا ہے۔اور یہ امر کسی اور جاندار کے لیے نصیب نہیں۔(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۲ تا ۳۳۳) چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلوں اور بد زبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے تا ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرہ بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام زمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنی ادنی بات میں منہ میں جھاگ آتا ہے۔آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں وہ کسی طرح امام زمان نہیں ہو سکتا۔لہذا اس پر آیت إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ کا پورے طور پر صادق آجانا ضروری ہے۔( ضرورة الامام، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۷۸) وَحَمِدَهُ وَعَذَا إِلَيْهِ خُلْقًا عَظِيمًا مِنَ اللہ تعالیٰ نے آپ (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی التَّفْحِيْمِ وَالتَّكْرِيمِ۔كَمَا جَاءَ في تعریف کی ہے اور آپ کی طرف خلق عظیم کو بطور ا کرام اور الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ۔وَإِنْ سَأَلَتْ مَا خُلُقُهُ اعزاز منسوب کیا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں اس کا ذکر آیا الْعَظِيمُ فَتَقُولُ أَنَّهُ رَحْمَانُ وَرَحِیم ہے۔اور اگر تو سوال کرے کہ آپ کے خلق عظیم کیا ہیں تو اعجاز اسی روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۱۱۸) ہم کہیں گے کہ آپ رحمان اور رحیم ہیں۔( ترجمہ از مرتب )