تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 40

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰ سورة القلم اصل میں توسط اور اعتدال پر واقعہ ہے۔اور ہر یک افراط و تفریط سے جو قوی حیوانیہ میں پایا جاتا ہے منزہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقُويمِ (التين : ۵) اس لئے خلق کے لفظ سے جو کسی مذمت کی قید کے بغیر بولا جائے ہمیشہ اخلاق فاضلہ مراد ہوتے ہیں۔اور وہ اخلاق فاضلہ جو حقیقت انسانیہ ہے۔تمام وہ خواص اندرونی ہیں جو نفس ناطقہ انسان میں پائے جاتے ہیں جیسے عقل ذکا۔سرعت فہم۔صفائی ذہن۔حسنِ تحفظ۔حسن تذکر۔عفت۔حیا۔صبر۔قناعت۔زہد - تورع۔جوانمردی۔استقلال۔عدل۔امانت - صدق کہجہ - سخاوت کی محلہ۔ایثار فی محلہ - کرم فی محلہ مروت کی محلہ۔شجاعت کی محلہ - علو ہمت فی محلہ علم فی محلہ محتمل فی محلہ - حمیت فی محلہ۔تواضع فی محلہ۔ادب کی محلہ۔شفقت فی محلہ۔رافت فی محلہ رحمت کی محلہ۔خوف الہی۔محبت الہیہ۔انس بالله انقطاع الی اللہ وغیرہ وغیرہ (براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۹۴، ۱۹۵ حاشیه ) غرض خدائے تعالیٰ کا ارادہ انبیاء اور اولیاء کی نسبت یہ ہوتا ہے کہ ان کے ہر یک قسم کے اخلاق ظاہر ہوں اور یہ پایہ ثبوت پہنچ جائیں۔سو خدائے تعالیٰ اسی ارادہ کو پورے کرنے کی غرض سے ان کی نورانی عمر کو دو حصہ پر منقسم کر دیتا ہے۔ایک حصہ تنگیوں اور مصیبتوں میں گزرتا ہے اور ہر طرح سے دکھ دیئے جاتے ہیں اور ستائے جاتے ہیں تا وہ اعلیٰ اخلاق ان کے ظاہر ہو جائیں کہ جو بجر سخت تر مصیبتوں کے ہرگز ظاہر اور ثابت نہیں ہو سکتے۔اگر ان پر وہ سخت تر مصیبتیں نازل نہ ہوں۔تو یہ کیوں کر ثابت ہو کہ وہ ایک ایسی قوم ہے کہ مصیبتوں کے پڑنے سے اپنے مولی سے بے وفائی نہیں کرتے بلکہ اور بھی آگے قدم بڑھاتے ہیں۔اور خداوند کریم کا شکر کرتے ہیں کہ اس نے سب کو چھوڑ کر انہیں پر نظر عنایت کی۔اور انہیں کو اس لائق سمجھا کہ اس کے لئے اور اس کی راہ میں ستائے جائیں۔سو خدائے تعالیٰ ان پر مصیبتیں نازل کرتا ہے تا ان کا صبر ، ان کا صدق قدم، ان کی مردی، ان کی استقامت، ان کی وفاداری، ان کی فتوت شعاری لوگوں پر ظاہر کر کے الاستقامة فوق الكرامة کا مصداق ان کو ٹھہر اوے۔کیونکہ کامل صبر بجز کامل مصیبتوں کے ظاہر نہیں ہوسکتا اور اعلیٰ درجہ کی استقامت اور ثابت قدمی بجز اعلیٰ درجہ کے زلزلے کے معلوم نہیں ہوسکتی اور یہ مصائب حقیقت میں انبیاء اور اولیاء کے لئے روحانی نعمتیں ہیں جن سے دنیا میں ان کے اخلاق فاضلہ جن میں وہ بے مثل و مانند ہیں ظاہر ہوتے ہیں اور آخرت میں ان کے درجات کی ترقی ہوتی ہے۔اگر خدا ان پر یہ مصیبتیں نازل نہ کرتا۔تو یہ نعمتیں بھی ان کو حاصل نہ ہوتیں اور نہ عوام پر ان کے شمائل حسنہ کما حقہ کھلتے بلکہ