تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 41

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱ سورة القلم دوسرے لوگوں کی طرح اور ان کے مساوی ٹھہرتے۔اور گو اپنی چند روزہ عمر کو کیسے ہی عشرت اور راحت میں بسر کرتے پر آخر ایک دن اس دار فانی سے گزر جاتے اور اس صورت میں نہ وہ عیش اور عشرت ان کی باقی رہتی نہ آخرت کے درجات عالیہ حاصل ہوتے نہ دنیا میں ان کی وہ فتوت اور جوانمردی اور وفاداری اور شجاعت شہرہ آفاق ہوتی جس سے وہ ایسے ارجمند ٹھہرے جن کا کوئی مانند نہیں اور ایسے لگا نہ ٹھہرے جن کا کوئی ہم جنس نہیں اور ایسے فرد الفر ٹھہرے جن کا کوئی ثانی نہیں اور ایسے غیب الغیب ٹھہرے جن تک کسی ادراک کی رسائی نہیں اور ایسے کامل اور بہادر ٹھہرے کہ گویا ہزار ہا شیر ایک قالب میں ہیں اور ہزار ہا پلنگ ایک بدن میں جن کی قوت اور طاقت سب کی نظروں سے بلند تر ہو گئی اور جو تقرب کے اعلیٰ درجات تک پہنچ گئی۔اور دوسرا حصہ انبیاء اور اولیاء کی عمر کا فتح میں، اقبال میں، دولت میں بمرتبہ کمال ہوتا ہے تا وہ اخلاق ان کے ظاہر ہو جائیں کہ جن کے ظہور کے لئے فتح مند ہونا، صاحب اقبال ہونا، صاحب دولت ہونا ، صاحب اختیار ہونا، صاحب اقتدار ہونا ، صاحب طاقت ہونا ضروری ہے۔کیونکہ اپنے دکھ دینے والوں کے گناہ بخشا اور اپنے ستانے والوں سے درگزر کرنا اور اپنے دشمنوں سے پیار کرنا اور اپنے بداندیشوں کی خیر خواہی بجالا نا۔دولت سے دل نہ لگانا، دولت سے مغرور نہ ہونا، دولتمندی میں امساک اور بخل اختیار نہ کرنا اور کرم اور جو د اور بخشش کا دروازہ کھولنا اور دولت کو ذریعہ نفس پروری نہ ٹھہرانا اور حکومت کو آلہ ظلم و تعدی نہ بنانا۔یہ سب اخلاق ایسے ہیں کہ جن کے ثبوت کے لئے صاحب دولت اور صاحب طاقت ہونا شرط ہے۔اور اسی وقت یہ پایہ ثبوت پہنچتے ہیں کہ جب انسان کے لئے دولت اور اقتدار دونوں میسر ہوں۔پس چونکہ بجز زمانہ مصیبت واد با روز مانه دولت و اقتدار سیہ دونوں قسم کے اخلاق ظاہر نہیں ہو سکتے۔اس لئے حکمت کا ملہ ایزدی نے تقاضا کیا کہ انبیاء اور اولیاء کو ان دونوں طور کی حالتوں سے کہ جو ہزار ہا نعمتوں پر مشتمل ہیں متمتع کرے۔لیکن ان دونوں حالتوں کا زمانہ وقوع ہریک کے لئے ایک ترتیب پر نہیں ہوتا۔بلکہ حکمت الہیہ بعض کے لئے زمانہ امن و آسائش پہلے حصہ عمر میں میسر کر دیتی ہے اور زمانہ تکالیف پیچھے سے اور بعض پر پہلے وقتوں میں تکالیف وارد ہوتی ہیں اور پھر آخر کار نصرت الہی شامل ہو جاتی ہے اور بعض میں یہ دونوں حالتیں مخفی ہوتی ہیں اور بعض میں کامل درجہ پر ظهور و بروز پکڑتی ہیں اور اس بارے میں سب سے اول قدم حضرت خاتم الرسل محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کمال وضاحت سے یہ دونوں حالتیں وارد ہو گئیں اور ایسی ترتیب سے آئیں کہ جس سے تمام اخلاق فاضلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثل آفتاب کے روشن