تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 37

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷ سورة الملك لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي اَصْحٰبِ السَّعِيرِ سے معلوم ہوتا ہے کہ سماع اور عقل انسان کو ایمان کے واسطے جلد تیار کر دیتی ہے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخه ۲۹ رمئی ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۴۶) أَوَ لَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمُ ضَفْتِ وَ يَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمٰنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْ عِم بَصِيرٌ (۲۰ کیا ان لوگوں نے اپنے سروں پر پرندوں کو اڑتے ہوئے نہیں دیکھا کہ کبھی وہ باز و کھلے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں رحمن ہی ہے کہ ان کو گرنے سے تھام رکھتا ہے یعنی فیضان رحمانیت ایسا تمام ذی روحوں پر محیط ہو رہا ہے کہ پرندے بھی جو ایک پیسہ کے دو تین مل سکتے ہیں وہ بھی اس فیضان کے وسیع دریا میں خوشی اور سرور سے تیر رہے ہیں ۔ (براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۴۹، ۴۵۰ حاشیہ نمبر ۱۱) وَ يَقُولُونَ مَتَى هُذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللهِ وَ إِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ ۔ کافر پوچھتے ہیں کہ یہ دعوی پورا کب ہوگا ۔ اگر تم سچے ہو تو تاریخ عذاب بتاؤ۔ ان کو کہہ دے مجھے کوئی تاریخ معلوم نہیں ۔ یہ علم خدا کو ہے میں تو صرف ڈرانے والا ہوں ۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۵۳)