تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 30
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة التحريم اس میں نفخ روح ہو کر صفات عیسوی پیدا ہوں گی۔اب اس کی کیفیت اور لطافت براہین احمدیہ سے معلوم ہوگی کہ پہلے میرا نام مریم رکھا۔پھر اس میں روح صدق نفخ کر کے مجھے عیسی بنایا۔مومنوں کی جو یہ دو مثالیں بیان کی گئی ہیں۔وہ اس آیت سے بھی معلوم ہوتی ہیں۔الحکم جلد نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰) امت کی دو ہی قسم ہیں ایک فرعون کی بیوی اور دوسرے مریم بنت عمران اور اسی کی طرف اس آیت میں ج E و صم اشارہ ہے مِنْهُمْ ظَالِمُ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْراتِ (فاطر : ۳۳) ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جو کہ نفس امارہ کے تابع ہیں کہ جس راہ پر نفس نے ڈالا اسی راہ پر چل پڑے اور وہ صح بکھ کی طرح ہوتے ہیں اور ان کی مثال بہائم کی ہے اس لئے کسی مد میں نہیں آسکتے اور یہ کثرت سے ہوتے ہیں۔پھر ان کے بعد نفس تو امہ والے جو کہ فرعون کی بیوی ہیں یعنی ان کو نفس ہمیشہ ملامت کرتا رہتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ امارہ سے ان کو آزادی ملے۔یہ کم ہوتے ہیں اور پھر ان سے کم نفس مطمئنہ والے یعنی مریم بنت عمران۔جس زمانے کا وعدہ خدا نے کیا ہوا تھا کہ ضرور تھا کہ اس میں ایک نفس مریم کی طرح ہوتا اور اس زمانے میں خدا نے فیہ میں ضمیر مذکر کی استعمال کی ہے تا کہ اشارہ اس طرف ہو کہ ایک مرد ہو گا جو صفات مریمیت حاصل کر کے عیسی ہوگا۔البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۰) خدا کی کتب میں نبی کے ماتحت اُمت کو عورت کہا جاتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ایک جگہ نیک بندوں کی تشبیہ فرعون کی عورت سے دی گئی ہے اور دوسری جگہ عمران کی بیٹی سے مشابہت دی گئی ہے۔اناجیل میں بھی مسیح کو دولہا اور امت کو دلہن قرار دیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امت کے واسطے نبی کی ایسی ہی اطاعت لازم ہے جیسی کہ عورت کو مرد کی اطاعت کا حکم ہے۔البدر جلد نمبر ۲۳ مورخه ۷ استمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۲) ان (کرشن۔ناقل ) کے متعلق جو گو پہیوں کی کثرت مشہور ہے اصل میں ہمارے خیال میں بات یہ ہے کہ اُمت کی مثال عورت سے بھی دی جاتی ہے۔چنانچہ قرآن شریف سے بھی اس کی نظیر ملتی ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ الح - یہ ایک نہایت ہی بار یک رنگ کا لطیف استعارہ ہوتا ہے۔اُمت میں جو ہر صلاحیت ہوتا ہے اور نبی اور اُمت کے تعلق سے بڑے بڑے حقائق معارف اور فیضان کے چشمے پیدا ہوتے ہیں اور نبی اور اُمت کے سے تعلق سے وہ نتائج پیدا ہوتے ہیں جن سے خدائی فیضان اور رحم کا جذب ہوتا ہے پس کرشن اور گوپیوں کے ظاہری قصہ کی تہہ میں ہمارے خیال میں