تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 29

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹ سورة التحريم جاتے ہیں اور غلطیاں کر بیٹھتے ہیں پر پچھتاتے ہیں تو بہ کرتے ہیں خدا سے پناہ مانگتے ہیں۔ان کا نفس فرعون سے خاوند کی طرح ان کو تنگ کرتا رہتا ہے۔وہ لوگ نفس لوامہ رکھتے ہیں بدی سے بچنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔دوسرے مومن وہ ہیں جو اس سے اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں۔وہ صرف بدیوں سے ہی نہیں بچتے بلکہ نیکیوں کو حاصل کرتے ہیں ان کی مثال اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم سے دی ہے۔اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِنْ رُوحِنَا (الانبیاء :۹۲) ہر ایک مومن جو تقویٰ و طہارت میں کمال پیدا کرے وہ بروزی طور پر مریم ہوتا ہے اور خدا اس میں اپنی روح پھونک دیتا ہے۔جو کہ ابن مریم بن جاتی ہے۔زمخشری نے بھی اس کے یہی معنی کیے ہیں کہ یہ آیت عام ہے۔اور اگر یہ معنی نہ کیے جاویں تو حدیث شریف میں آیا ہے کہ مریم اور ابن مریم کے سوا میں شیطان سے کوئی محفوظ نہیں۔اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ تمام انبیاء پر شیطان کا دخل تھا۔پس در اصل اس آیت میں بھی اشارہ ہے کہ ہر مومن جو اپنے تئیں اس کمال کو پہنچائے ، خدا کی روح اس میں پھونکی جاتی ہے اور وہ ابن مریم بن جاتا ہے اور اس میں ایک پیش گوئی ہے کہ اس امت میں ابن مریم پیدا ہو گا۔تعجب ہے کہ لوگ اپنے بیٹوں کا نام محمد اور عیسی اور موسیٰ اور یعقوب اور اسحاق اور اسماعیل اور ابراہیم رکھ لیتے ہیں اور اس کو جائز جانتے ہیں پر خدا کے لئے جائز نہیں جانتے کہ وہ کسی کا نام عیسی یا ابن مریم رکھ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۸ مورخه ۳۱ جولائی ۱۹۰۱ صفحه ۴) دیں۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس میں دو قسم کی عورتوں سے مثال دی ہے۔اوّل فرعون کی بیوی سے اور ایک مریم سے۔پہلی مثال میں یہ بتایا ہے کہ ایک مومن اس قسم کے ہوتے ہیں جو ابھی اپنے جذبات نفس کے پنجے میں گرفتار ہوتے ہیں اور ان کی بڑی آرزو اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ خدا ان کو اس سے نجات دے۔یہ مومن فرعون کی بیوی کی طرح ہوتے ہیں کہ وہ بھی فرعون سے نجات چاہتی تھی مگر مجبور تھی۔لیکن جو مومن اپنے تئیں تقویٰ اور طہارت کے بڑے درجہ تک پہنچاتے ہیں اور احصانِ فرج کرتے ہیں تو پھر خدا تعالیٰ ان میں عیسیٰ کی روح نفخ کر دیتا ہے۔نیکی کے یہ دو مرتے ہیں جو مومن حاصل کر سکتا ہے مگر دوسرا وہ بہت بڑھ کر ہے کہ اس میں نفخ روح ہو کر وہ عیسی بن جاتا ہے یہ آیت صاف اشارہ کرتی ہے کہ اس امت میں کوئی شخص مریم صفت ہوگا کہ اس میں نفخ روح ہو کر عیسی بنا دیا جاوے گا۔اب کوئی عورت تو ایسی ہے نہیں اور نہ کسی عورت کے متعلق پیشگوئی ہے۔اس لئے صاف ظاہر ہے کہ اس سے یہی مراد ہے کہ اس امت میں ایک ایسا انسان ہوگا جو پہلے اپنے تقویٰ وطہارت اور احصان و عفت کے لحاظ سے صفت مریمیت سے موصوف ہوگا اور پھر