تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 28
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸ سورة التحريم آیت کا بجز میرے کوئی دنیا میں مصداق نہیں۔پس یہ پیشگوئی سورہ تحریم میں خاص میرے لئے ہے اور وہ آیت یہ ہے وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنا دیکھو سوره تحريم الجز و نمبر ۲۸ (ترجمہ) اور دوسری مثال اس اُمت کے افراد کی مریم عمران کی بیٹی ہے جس نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا تب ہم نے اُس کے پیٹ میں اپنی قدرت سے روح پھونک دی یعنی عیسی کی روح۔اب ظاہر ہے کہ بموجب اس آیت کے اس اُمت کی مریم کو پہلی مریم کے ساتھ تب مشابہت پیدا ہوتی ہے کہ اس میں بھی عیسی کی روح پھونک دی جائے جیسا کہ خدا نے خود روح پھونکنے کا ذکر بھی اس آیت میں فرما دیا ہے اور ضرور ہے کہ خدا کا کلام پورا ہو۔پس اس تمام اُمت میں وہ میں ہی ہوں میرا ہی نام خدا نے براہین احمدیہ میں پہلے مریم رکھا اور بعد اس کے میری ہی نسبت یہ کہا کہ ہم نے اس مریم میں اپنی طرف سے روح پھونک دی اور پھر روح ۱۳۰۰ پھونکنے کے بعد مجھے ہی میسی قرار دیا۔پس اس آیت کا میں ہی مصداق ہوں۔میرے سوا تیرہ سو برس میں کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ پہلے خدا نے میرا نام مریم رکھا اور مریم میں اپنی طرف سے روح پھونک دی جس سے میں عیسی بن گیا۔خدا سے ڈرو اور اس میں غور کرو جس زمانہ میں خدا نے براہین احمدیہ میں یہ فرمایا اُس وقت تو میں اس دقیقہ معرفت سے خود بے خبر تھا جیسا کہ میں نے براہین احمدیہ میں اپنا عقیدہ بھی ظاہر کر دیا کہ عیسی آسمان سے آنے والا ہے۔یہ میرا عقیدہ اس بات پر گواہ ہے کہ میری طرف سے کوئی افتر انہیں اور میں خدا کی تفہیم سے پہلے کچھ نہیں سمجھ سکا۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۵۱،۳۵۰ حاشیه ) یہ نکتہ بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں مجھے عیسی کے نام سے موسوم کرنے سے پہلے میرا نام مریم رکھا اور ایک مدت تک میرا نام خدا کے نزدیک یہی رہا اور پھر خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اے مریم میں نے تجھ میں سچائی کی رُوح پھونک دی گویا یہ مریم سچائی کی روح سے حاملہ ہوئی اور پھر خدا نے براہین احمدیہ کے اخیر میں میرا نام عیسی رکھ دیا گویا وہ سچائی کی روح جو مریم میں پھونکی گئی تھی ظہور میں آکر عیسی کے نام سے موسوم ہو گئی۔پس اس طرح پر میں خدا کی کلام میں ابن مریم کہلایا اور یہی معنی اِس وحی الہی کے ہیں کہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ۔(حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۵۱، ۳۵۲) قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مومن کی دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ایک مثال فرعون کی عورت سے ہے جو کہ اس قسم کے خاوند سے خدا کی پناہ چاہتی ہے۔یہ ان مومنوں کی مثال ہے جو نفسانی جوش کے آگے گر