تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 18

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام IA سورة الطلاق الله عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَ اَنَّ اللهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا یعنی خدائے تعالیٰ نے آسمانوں کو سات پیدا کیا اور ایسا ہی زمینیں بھی سات ہی پیدا کیں اور ان سات آسمانوں کا اثر جو بامرالہی ان میں پیدا ہے سات زمینوں میں ڈالا تا کہ تم لوگ معلوم کر لو کہ خدا تعالیٰ ہر ایک چیز کے بنانے پر اور ہر ایک انتظام کے کرنے پر اور رنگارنگ کے پیرائیوں میں اپنے کام دکھلانے پر قدرت تامہ رکھتا ہے اور تا تمہارے علم وسیع ہو جائیں اور علوم وفنون میں تم ترقی کرو اور ہیئت اور طبعی اور طبابت اور جغرافیہ وغیرہ علوم تم میں پیدا ہو کر خدا تعالیٰ کی عظمتوں کی طرف تم کو متوجہ کریں اور تم سمجھ لو کہ کیسے خدا تعالیٰ کا علم اور اس کی حکمت کا ملہ ہر ایک شے پر محیط ہو رہی ہے اور کیسی ترکیب ابلغ اور ترتیب محکم کے ساتھ آسمان اور جو کچھ اس میں ہے اپنا رشتہ زمین سے رکھتا ہے اور کیسے خدا تعالیٰ نے زمین کو قوت قابلہ عطا کر رکھی ہے اور آسمانوں اور ان کے اجرام کو قوت مؤثرہ مرحمت فرمائی ہے اور یادر ہے کہ جس طرح تنزل امر جسمانی اور روحانی دونوں طور پر آسمانوں سے ہوتا ہے اور ملائک کی توجہات اجرام سماوی کی تاثیرات کے ساتھ مخلوط ہو کر زمین پر گرتی ہیں ایسا ہی زمین اور زمین والوں میں بھی جسمانی اور روحانی دونوں قوتیں قابلیت کی عطا کی گئی ہیں تا قوابل اور مؤثرات میں بکلی مساوات ہو۔اور سات زمینوں سے مرادزمین کی آبادی کے سات طبقے ہیں جو نسبتی طور پر بعض بعض کے تحت واقع ہیں اور کچھ بے جانہ ہوگا اگر ہم دوسرے لفظوں میں ان طبقات سبعہ کو ہفت اقلیم کے نام سے موسوم کر دیں لیکن ناظرین اس دھو کہ میں نہ پڑیں کہ جو کچھ ہفت اقلیم کی تقسیم ان یونانی علوم کی رو سے ہو چکی ہے جس کو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں حکماء اسلام نے یونانی کتب سے لیا تھا وہ بکلی صحیح اور کامل ہے کیونکہ اس جگہ تقسیم سے مراد ہماری ایک صحیح تقسیم مراد ہے جس سے کوئی معمورہ باہر نہ رہے اور زمین کی ہر ایک جزو کسی حصہ میں داخل ہو جائے ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ اب تک یہ صحیح اور کامل تقسیم معرض ظہور میں بھی آئی یا نہیں بلکہ صرف یہ غرض ہے کہ جو خیال اکثر انسانوں کا اس طرف رجوع کر گیا ہے کہ زمین کو سات حصہ پر تقسیم کیا جائے۔یہ خیال بھی گویا ایک الہامی تحریک تھی جو الہی تقسیم کے لئے بطور شاہد ہے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵۵ تا ۱۶۰ حاشیه در حاشیه )