تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 17
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷ سورة الطلاق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے اور قرآن شریف نازل کیا گیا اُس زمانہ پر ضلالت اور گمراہی کی ظلمت طاری ہورہی تھی اور کوئی ایسی قوم نہیں تھی کہ جو اس ظلمت سے بچی ہوئی ہو۔( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۴۹) نزول کے لفظ سے در حقیقت آسمان سے نازل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کھلے کھلے طور پر قرآن شریف میں آیا ہے اَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَسُولاً تو کیا اس سے یہ سمجھ لینا چاہیے که در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آسمان سے ہی اُترے تھے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۰) نزول سے کہاں سمجھا جاتا ہے جو آسمان سے نزول ہو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔ہم نے یہ نبی اُتارا۔الحق مباحثه دیلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۵) قرآن شریف میں آیت انْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَسُولاً میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نازل ہی لکھا گیا ہے مگر کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت آسمان سے نازل ہوئے تھے۔۔۔۔بعض نادان کہتے رض ہیں کہ بعض اقوال صحابہ میں نزول کے ساتھ الی کا لفظ آیا ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف کے لئے مستعمل ہے مگر وہ نہیں سمجھتے کہ جس حالت میں استعارہ کے طور پر خدا تعالیٰ کے ماموروں کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن میں یہ محاورہ آگیا ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوتے ہیں تو اس صورت میں استعارہ کے طور پر مسیح موعود کے نزول کے ساتھ الی کا لفظ ملانا کون سی غیر محل بات ہے۔کیا قرآن میں نہیں ہے انْزَلَ اللهُ الیکم ذِكْرًا رَّسُولًا - ایام الصلح ، روحانی خسته ائن جلد ۱۴ صفحه ۳۱۶، ۳۱۷) اللهُ الَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَمُوتٍ وَ مِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعلَمُوا أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَ أَنَّ اللهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا کوئی یہ اعتراض پیش کرے کہ خدا تعالیٰ نے آسمانوں کو سات میں کیوں محدود کیا اس کی کیا وجہ ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ در حقیقت یہ تاثیرات مختلفہ کی طرف اشارہ ہے جو مختلف طبقات سماوی سے مختلف ستارے اپنے اندر جذب کرتے ہیں۔اور پھر زمین پر ان تاثیرات کو ڈالتے ہیں۔چنانچہ اسی کی تصریح اس آیت میں موجود ہے۔اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمُوتٍ وَ مِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزِّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ