تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 421 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 421

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۱ سورة الفلق قابیل نے اپنے بھائی کا خون زمین پر گرایا مگر یہ لوگ بباعث جوش حسد سچائی کا خون کریں گے۔غرض سورة قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ میں ان لوگوں کے عقائد کا بیان ہے اور سورہ فلق میں ان لوگوں کے ان اعمال کی تشریح ہے جو قوت اور طاقت کے وقت ان سے ظاہر ہوں گے۔چنانچہ دونوں سورتوں کو بالمقابل رکھنے سے صاف سمجھ آتا ہے کہ پہلی سورۃ یعنی سورۃ اخلاص میں قوم نصاری کے اعتقادی حالات کا بیان ہے اور دوسری سورۃ میں عملی حالات کا ذکر ہے۔اور سخت تاریکی سے آخری زمانہ کی طرف اشارہ ہے جبکہ یہ لوگ اس رُوح کے مظہر اتم ہوں گے جو خدا کی طرف سے مضل ہے اور ان دونوں سورتوں کے بالمقابل لکھنے سے جلد تران لطیف اشارات کا علم ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کہہ میں پناہ مانگتا ہوں اُس رب کی جس نے تمام مخلوقات پیدا کی اس طرح پر کہ ایک کو پھاڑ کر اس میں سے دوسرا پیدا کیا یعنی بعض کو بعض کا محتاج بنایا اور جو تاریکی کے بعد صبح کو پیدا کرنے والا ہے۔مِن شَرِّ مَا خَلَقَ ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں ایسی مخلوق کی شر سے جو تمام شریروں سے شر میں بڑھی ہوئی ہے اور شرارتوں میں اُس کی نظیر ابتداء دنیا سے اخیر تک اور کوئی نہیں جن کا عقیدہ امر حق لَم يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ کے برخلاف ہے یعنی وہ خدا کے لئے ایک بیٹا تجویز کرتے ہیں۔وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَمِن شَرِّ النَّفْتُتِ فِي الْعُقَدِ وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ - اور ہم پناہ مانگتے ہیں خدا تعالیٰ کی اس زمانہ سے جبکہ تثلیت اور شرک کی تاریکی تمام دنیا پر پھیل جائے گی۔اور نیز اُن لوگوں کے شر سے کہ جو پھونکیں مار کر گر ہیں دیں گے یعنی دھوکا دہی میں جادو کا کام دکھا ئیں گے اور راہ راست کی معرفت کو مشکلات میں ڈال دیں گے اور نیز اس بڑے حاسد کے حسد سے پناہ مانگتا ہوں جبکہ وہ گروہ سرا سرحد کی راہ سے حق پوشی کرے گا یہ تمام اشارات عیسائی پادریوں کی طرف ہیں کہ ایک زمانہ آنے والا ہے جو وہ دنیا میں شر پھیلائیں گے اور دنیا کو تاریکی سے بھر دیں گے اور جادو کی طرح ان کا دھوکا ہوگا اور وہ سخت حاسد ہوں گے اور اسلام کو حسد کی راہ سے بنظر تحقیر دیکھیں گے اور لفظ رَبِّ الْفَلَقِ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس تاریکی کے بعد پھر صبح کا زمانہ بھی آئے گا جو مسیح موعود کا زمانہ ہے۔۔۔۔۔۔ان دونوں سورتوں (اخلاص اور فلق ) میں ایک ہی فرقہ کا ذکر ہے صرف یہ فرق ہے کہ سورۃ اخلاص میں اس فرقہ کی اعتقادی حالت کا بیان ہے اور سورۃ الفلق میں اس فرقہ کی عملی حالت کا ذکر ہے اور اس فرقہ کا نام سورۃ الفلق میں شَرِ مَا خَلَقَ رکھا گیا ہے یعنی شَرُّ الْبَرِيَّةِ اور احادیث پر نظر