تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 418 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 418

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۸ سورة الاخلاص سورت قرآن شریف کی ہے جو ایک سطر میں آجاتی ہے لیکن دیکھو کس خوبی اور عمدگی کے ساتھ ہر قسم کے شرک سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کی گئی ہے۔حصر عقلی میں شرک کے جس قدر قسم ہو سکتے ہیں ان سے اس کو پاک بیان کیا ہے۔جو چیز آسمان اور زمین کے اندر ہے وہ ایک تغیر کے نیچے ہے مگر خدا تعالیٰ نہیں ہے۔اب یہ کیسی صاف اور ثابت شدہ صداقت ہے۔دماغ اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔نور قلب جس کی شریعت دل میں ہے اس پر شہادت دیتا ہے۔قانون قدرت اسی کا مؤید و مصدق ہے یہاں تک کہ ایک ایک پتہ اس پر گواہی دیتا ہے۔پس اس کو شناخت کرنا ہی عظیم الشان بات ہے۔خدا تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں یہ چھوٹی سی سورت نازل کی یہ ایسی ہے کہ اگر توریت کے سارے دفتر کی بجائے اس میں اس قدر ہوتا تو یہود تباہ نہ ہوتے اور انجیل کے اتنے بڑے مجموعہ کو چھوڑ کر اگر یہی تعلیم ان کو دی جاتی تو آج دنیا کا ایک بڑا حصہ ایک مردہ پرست قوم نہ بن جاتا۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۲ صفحه ۵) الضالین کے مقابل آخر کی تین سورتیں ہیں۔اصل تو قُلْ هُوَ اللہ ہے اور باقی دو نو سورتیں اس کی شرح ہیں۔قُلْ هُوَ اللہ کا ترجمہ یہ ہے کہ نصاری سے کہہ دو کہ اللہ ایک ہے۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۲ صفحه ۵) قصیدوں میں واقعات کا نبھانا مشکل امر ہوا کرتا ہے۔شاعر اسے نہیں کر سکتے۔ان کو قافیہ اور ردیف کے لئے بالکل بے جوڑ باتیں اور الفاظ لانے پڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے مقابل پر قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ۔الله الصمد کو دیکھو۔(البدر جلد نمبر ۴ مورخه ۲۱ /نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۲۸) ہمارا خدا لم يلد ہے اور کس قدر خوشی اور شکر کا مقام ہے کہ جس خدا کو ہم نے مانا اور اسلام نے پیش کیا ہے وہ ہر طرح کامل اور قدوس ہے اور کوئی نقص اس میں نہیں۔یہ دو خو بیاں کامل طور پر اللہ تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں اور ساری صفات ان کو بیان کرتی ہیں چنانچہ اول یہ کہ اس میں ذاتی حسن ہے اور اس کے متعلق کیس كَمِثْلِهِ شَيْءٍ فرما ياقُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ فرمایا اور کہا کہ وہ الصمد ہے، بے نیاز ہے، نہ وہ کسی کا بیٹا ہے نہ اس کا کوئی بیٹا ہے۔نہ کوئی اس کا ہمتا اور ہمسر ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۲)