تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 419
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۴۱۹ سورة الفلق بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الفلق بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قُل اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَ مِنْ شَرِّ النَّفْتَتِ فِي الْعُقَدِنْ وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَه کہہ میں شریر مخلوقات کی شرارتوں سے خدا کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں اور اندھیری رات سے خدا کی پناہ میں آتا ہوں یعنی یہ زمانہ اپنے فساد تنظیم کے رو سے اندھیری رات کی مانند ہے سوالہبی قوتیں اور طاقتیں اس زمانہ کی تنویر کے لئے درکار ہیں انسانی طاقتوں سے یہ کام انجام ہونا محال ہے۔برائن احمد یہ چہار تخصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۰۴ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) سورۃ الفلق اور سورۃ الناس یہ دونوں سورتیں سورہ تبت اور سورہ اخلاص کے لئے بطور شرح کے ہیں اور ان دونوں سورتوں میں اس تاریک زمانہ سے خدا کی پناہ مانگی گئی ہے جب کہ لوگ خدا کے مسیح کو دکھ دیں گے اور جب کہ عیسائیت کی ضلالت تمام دنیا میں پھیلے گی۔تحفه گولار و بیه، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه (۲۱۸) تم جو نصاری کا فتنہ دیکھو گے اور مسیح موعود کے دشمنوں کا نشانہ بنو گے یوں دعا مانگا کرو کہ میں تمام مخلوق کے شر سے جو اندرونی اور بیرونی دشمن ہیں اس خدا کی پناہ مانگتا ہوں جو صبح کا مالک ہے یعنی روشنی کا ظاہر کرنا اس کے اختیار میں ہے اور میں اس اندھیری رات کے شر سے جو عیسائیت کے فتنہ اور انکار مسیح موعود کے فتنہ کی رات ہے خدا کی پناہ مانگتا ہوں اُس وقت کے لئے یہ دُعا ہے جبکہ تاریکی اپنے کمال