تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 400

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۰ سورة النصر گا۔اور پھر دوسری مرتبہ تم مجھے اس جگہ نہیں پاؤ گے۔تب مدینہ میں جا کر دوسرے سال میں فوت ہو گئے اللهم صل علیه و بارک وسلم - ( نور القرآن نمبر ا، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۶۱ تا ۳۶۷) یہ سورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب زمانہ وفات میں نازل ہوئی تھی اور اس میں اللہ تعالیٰ زور دے کر اپنی نصرت اور تائید اور تکمیل مقاصد دین کی خبر دیتا ہے کہ اب تو اے نبی خدا کی تسبیح کر اور تمجید کر اور خدا سے مغفرت چاہ۔وہ تو اب ہے۔اس موقع پر مغفرت کا ذکر کرنا یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ اب کام تبلیغ ختم ہو گیا۔خدا سے دعا کر کہ اگر خدمت تبلیغ کے دقائق میں کوئی فروگذاشت ہوئی ہو تو خدا اس کو بخش دے۔موسیٰ بھی تو ریت میں اپنے قصوروں کو یاد کر کے روتا ہے اور جس کو عیسائیوں نے خدا بنا رکھا ہے کسی نے اس کو کہا کہ اے نیک استادی تو اس نے جواب دیا کہ تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے نیک کوئی نہیں مگر خدا۔یہی تمام اولیاء کا شعار رہا ہے۔سب نے استغفار کو اپنا شعار قرار دیا ہے۔بجز شیطان کے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۷۱) اس میں اس امر کی طرف صریح اشارہ ہے کہ آپ اس وقت دنیا میں آئے جب دین اللہ کو کوئی جانتا بھی نہ تھا اور عالمگیر تاریکی پھیلی ہوئی تھی اور گئے اس وقت کہ جبکہ اس نظارہ کو دیکھ لیا کہ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ افواجا جب تک اس کو پورا نہ کر لیا نہ تھکے نہ ماندہ ہوئے۔مخالفوں کی مخالفتیں ، اعداء کی سازشیں اور منصوبے، قتل کرنے کے مشورے، قوم کی تکلیفیں آپ کے حوصلہ اور ہمت کے سامنے سب پیچ اور بیکار تھیں اور کوئی ایسی چیز نہ تھی جو اپنے کام سے ایک لمحہ کے لئے بھی روک سکتی۔اللہ تعالی نے آپ کو اس وقت تک زندہ رکھا جب تک کہ آپ نے وہ کام نہ کر لیا جس کے واسطے آئے۔یہ بھی ایک سر ہے کہ خدا کی طرف سے آنے والے جھوٹوں کی طرح نہیں آتے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲ مورخه ۷ ارجنوری ۱۹۰۱ صفحه ۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ فتح عظیم جس کا آپ کے ساتھ وعدہ تھا حاصل کر چکے تھے۔رایت النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا دیکھ چکے تھے۔(احکام جلد ۵ نمبر ۱۴ مورخہ ۷ اسرا پریل ۱۹۰۱ صفحہ ۷ ) نبی بہت بڑی ذمہ داریاں لے کر آتا ہے اس لئے جب وہ اپنے کام کو کر چکتا ہے اور تبلیغ کر کے رخصت ہونے کو ہوتا ہے تو وہ وقت اس کا گویا خدا تعالیٰ کو چارج دینے کا ہوتا ہے۔ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ جس پر اپنا فضل کرتا ہے اس پر استغفار کا لفظ بولتا ہے اس طریق کے موافق رسول اللہ کو بھی ارشاد الہی اسی طرح ہوتا ب فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّكَ كَانَ تَوَا با خدا تعالیٰ ہر ایک نقص سے پاک ہے اس کی تسبیح کر اور جو