تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 401 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 401

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۱ سورة النصر کچھ سہو بشریت کی رو سے اس ذمہ داری کے کام میں ہوا ہے تو اس سے استغفار چاہو جس کے سپر د ہزاروں کام ہوں اس کے لئے ضروری ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو مقاصد عظیم الشان لے کر آئے تھے۔غرض یہ ایک چارج تھا جو آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیا اور جس میں آپ کی پوری کامیابی کی طرف پہلے اشارہ کر دیا۔اور یہ سورۃ گویا آنحضرت کی وفات کا ایک پروانہ تھا۔یہ بھی یادرکھو کہ انبیاء کی زندگی اسی وقت تک ہوتی ہے جب تک مصائب کا زمانہ رہے اس کے بعد جب فتح و نصرت کا وقت آتا ہے تو وہ گو یا ان کی وفات کا پروانہ ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کام کو کر چکے ہوتے ہیں جس کے لئے بھیجے جاتے ہیں اور اصل تو یہ ہے کہ کام تو اللہ کے فضل سے ہوتے ہیں مفت میں ثواب لینا ہوتا ہے۔جو شخص اس میں بھی خود غرضی ،شستی ، ریا کی آمیزش کرے وہ اصل ثواب سے محروم رہ جاتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مورد ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۲ ، صفحه ۱۶) مخالف مامور کی عمر کو بڑھاتے ہیں اور وہ گو یا سلسلہ نبوت کی رونق کا باعث ہوتے ہیں ان کی مخالفت سے تحریک پیدا ہوتی اور خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آتی ہے۔جب مخالفت اُٹھ جاتی ہے تو گویا مامور بھی اپنا کام کر چکتا ہے اور وہ فتحیاب ہو کر اُٹھایا جاتا ہے۔دیکھو جب تک کفار مکہ کی مخالفت کا زور شور رہا اس وقت تک بڑے بڑے اعجاز ظاہر ہوئے لیکن جب إذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَ الْفَتْحُ کا وقت آیا اور یہ سورۃ اتری تو گویا آپ کے انتقال کا وقت قریب آگیا۔فتح مکہ کیا تھی آپ کے انتقال کا ایک مقدمہ تھی۔غرض ان مخالفانہ تحریکوں سے بڑے بڑے فائدے ہوتے ہیں اور ہماری جماعت ان مخالفوں ہی میں سے نکل کر آئی ہے اور اگر یہ مخالفت نہ ہوتی تو اس زور شور سے تحریک اور تبلیغ نہ ہوتی۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۷) دیکھو اللہ تعالیٰ نے بعض کا نام سابق مہاجر اور انصار رکھا ہے اور ان کو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ میں داخل کیا ہے یہ وہ لوگ تھے جو سب سے پہلے ایمان لائے اور جو بعد میں ایمان لائے ان کا نام صرف ناس رکھا ہے جیسا فرما یا اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ - وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا۔یہ لوگ جو اسلام میں داخل ہوئے اگر چہ وہ مسلمان تھے مگر ان کو مراتب نہیں ملے جو پہلے لوگوں کو دیئے گئے اور پھر مہاجرین کی عزت سب سے زیادہ تھی کیونکہ وہ لوگ اس وقت ایمان لائے جب ان کو کچھ معلوم نہ تھا کہ کامیابی ہوگی یا نہیں بلکہ ہر طرف سے مصائب اور مشکلات کا ایک طوفان آیا ہوا تھا اور کفر کا ایک دریا بہتا تھا خاص مکہ میں مخالفت کی آگ بھڑک رہی تھی اور مسلمان ہونے والوں کو سخت اذیتیں اور تکلیفیں دی جاتی تھیں