تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 393 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 393

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۳۹۳ سورة الكافرون بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الكافرون بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قُلْ يَايُّهَا الكَفِرُونَ لاَ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ) وَ لَا اَنْتُم عبدُونَ مَا اعْبُدُ وَلَا أَنَا عَابِدُ مَا عَبَد تُم ل وَلاَ أَنْتُمْ عِيدُونَ مَا أَعْبُدُهُ لَكُمْ دِينَكُمْ ولى دِينِ کہ اے کا فرو۔میں اس چیز کی پرستش نہیں کرتا جس کی تم کرتے ہو۔( براتب احمد یہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۰۷ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) استخارہ اہل اسلام میں بجائے مہورت کے ہے۔چونکہ ہندو شرک وغیرہ کے مرتکب ہو کر شگن وغیرہ کرتے ہیں اس لئے اہل اسلام نے ان کو منع کر کے استخارہ رکھا۔اس کا طریق یہ ہے کہ انسان دور کعت نماز نفل پڑھے اول رکعت میں سورۃ قُلْ يَايُّهَا الكَفِرُونَ پڑھ لے اور دوسری میں قُلْ هُوَ اللهُ - التحیات میں یہ دعا کرے۔وو یا الہی میں تیرے علم کے ذریعے سے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت سے قدرت مانگتا ہوں کیونکہ تجھی کو سب قدرت ہے مجھے کوئی قدرت نہیں اور تجھے سب علم ہے مجھے کوئی علم نہیں اور تو ہی چھپی باتوں کو جاننے والا ہے۔الہی اگر تو جانتا ہے یہ امر میرے حق میں بہتر ہے بلحاظ دین اور دنیا کے تو تو اسے میرے لئے