تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 391

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۱ سورة الكوثر اس کو کوئی جانتا نہیں کہ کون ہے پھر یہ گمان کرتا ہے کہ ہم سے بہتر ہے لیکن ہم ایک معزز جماعت ہیں تمام حج کرنے والے ہم میں سے ہیں اور ہم ان کے سردار ہیں اور خانہ کعبہ کے متولی اور خادم بھی ہم ہی ہیں اور حاجیوں کو پانی پلانے کا شرف بھی ہمیں ہی حاصل ہے مگر یہ شخص تو کسی شمار میں نہیں۔جب یہ تمام باتیں ابن الاشرف نے سنیں تو اس بدبخت نے جواب دیا کہ در حقیقت تم اس شخص سے جو پیغمبری کا دعوی کرتا ہے بہتر ہو۔تب خدا تعالیٰ نے اس کے حق میں اور قریش کی اس تمام جماعت کے حق میں جو آہستہ کہتی تھی فرمایا کہ انا اعطيتك الكوثر يعنى ابن الاشرف نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آہتر کہا ہے اور قریش کے کفار نے بھی ابتر کہا یہ خود ابتر ہیں یعنی ان کی اولاد کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا اور ہر ایک خیر و برکت سے محروم مریں گے۔اس بات کو تو آج تک کوئی ثابت نہیں کر سکا کہ وہ تمام قریش کے لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آبتر کہتے تھے ان کی زندگی میں ہی ان کے تمام لڑکے مر گئے تھے یا ان کی اولاد نہیں تھی کیونکہ اگر ان کی اولاد نہ ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز وہ لوگ آبتر نہ کہتے۔یہ بات کوئی عظمند قبول نہیں کرسکتا کہ ایک شخص خود آبتر ہو کر دوسرے کو ابتر کہے۔پس ماننا پڑتا ہے کہ ان کی اولاد موجود تھی۔اور یہ دوسرا امر کہ پیشگوئی کے مطابق ان لوگوں کی اولاد ان کی زندگی میں ہی مرگئی تھی یہ امر بھی قرین قیاس نہیں اور عقل اس کو ہرگز باور نہیں کر سکتی کیونکہ ایسا کہنے والے نہ ایک نہ دو بلکہ صد ہا شریر النفس اور خبیث الطبع آدمی تھے جن کی اولاد کی ہزار ہا تک نوبت پہنچی تھی۔پس اگر ان کی زندگی میں ہی ان کی تمام اولا د مر جاتی تو ملک میں ایک کہرام مچ جاتا کیونکہ معجزہ کے طور پر ہزار ہا بچوں کا مرجانا اور پھر لا ولد ہونے کی حالت میں ان کے باپوں کا مرنا یہ ایسا معجزہ نہیں تھا جو مخفی رہ سکتا اور ضرور تھا کہ احادیث اور تاریخوں کی کتابوں میں اس کا ذکر ہوتا۔پس اس سے یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اکثر ان کے اولاد چھوڑ کر مر گئے تھے اور بعد میں پیشگوئی کے مطابق آہستہ آہستہ ان کی نسل منقطع ہوگئی۔۔۔۔بقیہ تر جمہ لسان العرب کا یہ ہے کہ ابتر مفلس کو بھی کہتے ہیں اور اس شخص کو بھی جو خسارہ میں ہو اور ان چیزوں کو آبتر کہتے ہیں جو مشکیزہ اور بوکا وغیرہ میں سے قبضہ نہ رکھتے ہوں۔اس تمام تحقیق سے ظاہر ہے کہ اول تو ابتر کا لفظ بے فرزند ہونے کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر ایک بدنصیب اور نامراد جو نا کام اور زیاں کار ہے۔اس کو بھی ابتر کہتے ہیں۔۔۔علاوہ اس کے تحقیق متذکرہ بالا کی روسے ثابت ہو گیا کہ ابتر ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ انسان ایسی حالت میں مرے جبکہ کوئی اس کی اولا د نہ ہو بلکہ اگر بعد میں بھی اس اولاد کا سلسلہ منقطع ہو جائے اور پوتے سے آگے نہ چلے تب بھی وہ آبتر کہلاتا