تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 390
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۰ سورة الكوثر کے سانپ کو شیطان کہتے ہیں اگر حاملہ عورت اس کو دیکھے تو اس کا حمل ساقط ہو جاتا ہے۔(۳) اور حدیث میں ہے کہ ہر ایک امر شاندار جس کو حمد الہی سے شروع نہ کیا جاوے وہ ابتر ہے(۴) اور آبتر اس کو بھی کہتے کہ جو عقب نہ رکھتا ہو یعنی اس کا کوئی بیٹا نہ ہو یا بیٹے کا بیٹا نہ ہو۔لسان العرب میں لکھا گیا ہے کہ عقب ولد کو بھی کہتے ہیں اور ولد الولد کو بھی کہتے ہیں۔پس ان معنوں کی رو سے جس کا بیٹا نہیں وہ بھی ابتر ہے اور جس کے بیٹے کے آگے بیٹا نہیں وہ بھی ابتر ہے۔مگر جس کے کئی بیٹوں میں کسی بیٹے کی نسل چل جائے اس کو آبتر نہیں کہہ سکتے۔پس جو شخص مرجائے اور ایسا کوئی بچہ نہ چھوڑے اس کا نام بھی ابتر ہے اور اس کے موافق خدا تعالیٰ کے اس قول ابتر تفسیر کی گئی ہے کہ انا اعطينكَ الْكَوْثَرَ - یہ آیت عاص بن وائل کے حق میں نازل ہوئی تھی۔وہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ بیٹھے ہوئے تھے۔پس عاص بن وائل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ ابتر ہے یعنی اس کا کوئی لڑکا نہیں ہے اور نہ لڑکے کا لڑکا۔تب خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلعم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے محمد ! جو تیرا بد گو ہے وہی ابتر ہے یعنی مقدر یوں ہے کہ جس اولاد پر وہ ناز کرتا ہے آخر اس کی اولا دفنا ہو جائے گی۔گو اس کی زندگی میں یا بعد اس کے۔اور سلسلہ نسل ختم ہو جائے گا۔یہ تو ظاہر ہے کہ عاص ابن وائل اولا در کھتا تھا کیونکہ اگر وہ ابتر یعنی بے اولاد ہوتا تو یہ غیر معقول بات تھی کہ باوجود آپ ابتر ہونے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ابتر رکھتا۔پس خدائے تعالی کی طرف سے یہ پیشگوئی تھی کہ انجام کا راس کی نسل قطع ہو جائے گی گو اس کی زندگی میں ہو یا بعد اس کے چنا نچہ ایسا ہی ہوا مگر معلوم ہوتا ہے کہ وہ اولا د چھوڑ کر مر گیا تھا لیکن بعد اس کے اس کی اولاد کا بھی خاتمہ ہو گیا۔کیونکہ اگر اولاد اس کے رو برومرتی تو ضرور اس کا ذکر کیا جاتا اور باقی ترجمہ یہ ہے کہ اس جگہ ابتر کے یہ معنی بھی جائز ہیں کہ ابتر اس کو کہتے کہ کہ ہر ایک خیر سے محروم اور بے نصیب ہو۔اور ابنِ عباس کی حدیث میں ہے کہ جب ابن اشرف مکہ میں آیا تو اس کو قریش نے کہا کہ تو سب مدینہ والوں سے بہتر اور ان کا سردار ہے۔اس نے کہا کہ ہاں میں ایسا ہی ہوں۔تب قریش نے کہا کہ کیا تو اس شخص کی طرف نہیں دیکھتا ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ) یہ ایک کمزور اور ضعیف اور گمنام شخص ہے نہ اس کا کوئی بیٹا اور نہ کوئی بھائی اور نہ کوئی دوستوں کی جماعت اس کے ساتھ ہے بلکہ ایک فرد واحد کیلی جان ہے اور قوم میں سے کاٹا ہوا ہے یعنی قوم نے باعث مخالفت مذہب اپنی جماعت میں سے اس کو خارج کر دیا ہے اور فتویٰ دے دیا ہے کہ کوئی اس کے ساتھ میل ملاپ نہ کرے اور نہ کوئی اس کی ہمدردی کرے اور باوجود اس بات کے کہ یہ شخص کچھ بھی عزت نہیں رکھتا اور