تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 389

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۹ سورة الكوثر اِنَّا اَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ میں ایک بروزی وجود کا وعدہ دیا گیا جس کے زمانہ میں کوثر ظہور میں آئے گا یعنی دینی برکات کے چشمے بہ نکلیں گے اور بکثرت دنیا میں بچے اہل اسلام ہو جا ئیں گے۔اس آیت میں بھی ظاہری اولاد کی ضرورت کو نظر تحقیر سے دیکھا اور بروزی اولاد کی پیشگوئی کی گئی۔مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۵۳۰) محاورات عرب کو بالاستقصاء دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ ابتر کے لفظ میں یہ شرط نہیں ہے کہ کوئی شخص صاحب اولاد اس حالت میں مرے کہ جب اس کی زندگی میں اس کی اولا د فوت ہو جائے بلکہ نسل کی جڑھ کٹ جانا شرط ہے جیسا کہ بہتر کے معنے لغت عرب میں یہ لکھے کہ الْبِثْرُ اسْتِبْصَالُ الشَّيْء قَطعا یعنی بتر کہتے ہیں کسی چیز کو جڑھ سے کاٹ دینے کو۔۔۔۔اس پیشگوئی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کی زندگی میں ہی وہ تمام نسل مرجائے کیونکہ اگر یہی شرط ہو تو پھر ایسی صورت میں ایسی قطع نسل کا کیا نام رکھنا چاہیے کہ ایک انسان ایک یا دو ولد چھوڑ کر مر جائے اور بعد اس کے کسی وقت وہ لڑ کے بھی مر جائیں اور کچھ نسل باقی نہ رہے۔کیا عرب کے محاورات میں بجز آبتر کے لفظ کے ایسی صورت میں کوئی اور لفظ بھی موجود ہے اور کیا یہ کہنا جائز ہوگا کہ ایسا شخص منقطع النسل نہیں اور لفظ استیصالُ الشَّيء قطعا اس پر لازم نہیں آتا۔پس ظاہر ہے کہ ایسا خیال حماقت اور دیوانگی ہے اور زبان عرب میں اس قسم کے قطع نسل کے لئے بجز لفظ آبتر کے اور کوئی لفظ مقرر نہیں اہل عرب اس شخص کو بہر حال ابتر ہی کہتے ہیں جس کی اولاد اس کی زندگی میں یا بعد اس کے اپنی موت کی وجہ سے اس کو لا ولد کے نام سے موسوم کرے بلکہ ہر ایک ملک میں ایسے شخص کا نام بہر حال ابتر ہی ہے جس کی نسل باقی نہ رہے اور منقطع النسل کر کے پکارا جائے اور ائمہ لغت عرب میں سے کسی نے یہ بیان نہیں کیا کہ ابتر ہونے کے لئے لازمی طور پر یہ شرط ہے کہ ایک شخص کے اولاد ہو کر اس کی زندگی میں ہی مر جائے اور اگر کسی کی اولا د اس کی زندگی میں فوت نہ ہو مگر اس کے مرنے کے بعد فوت ہو کر قطع نسل کر دے تو کیا عرب کی زبان میں ایسے شخص کو کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں بلکہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس لفظ کے اصل مادہ میں بہت وسعت ہے کیونکہ عربی میں بتر صرف جڑ کاٹ دینے کو کہتے ہیں۔واضح ہو کہ عرب کی زبان میں ابتر کا لفظ ایک وسیع لفظ ہے۔لسان العرب میں لکھا ہے۔۔۔۔بتر کہتے ہیں ایک چیز کا جڑھ سے کاٹ دینا۔دوسرے معنی بستر کے یہ ہیں کہ دم وغیرہ کو کاٹ دینا۔(۱) آبتر اس کو کہتے ہیں جس کی دم کائی گئی ہو (۲) سانپوں کی اقسام میں سے ایک قسم کے سانپوں کا نام ابتر ہے۔اس قسم