تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 388
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۸ سورة الكوثر اس لئے ہر حالت میں ایک سچے مسلمان کو یہ ماننا پڑے گا اور ماننا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات قدسی ابدالآباد کے لئے ویسی ہی ہیں جیسی تیرہ سو برس پہلے تھیں چنانچہ ان تا شیرات کے ثبوت کے لئے ہی خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اب وہی آیات و برکات ظاہر ہورہے ہیں جو اس وقت ہو رہے تھے۔الحکم جلدے نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۰۳ء صفحه ۲) اگر یہ مانا جائے جیسا کہ ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ آپ کا نہ کوئی جسمانی بیٹا تھا نہ روحانی۔تو پھر اس طرح پر معاذ اللہ یہ لوگ آپ کو ابتر تھہراتے ہیں مگر ایسا نہیں۔آپ کی شان تو یہ ہے کہ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ - فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ - إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ - الحکم جلد 4 نمبر ۳۷ مورخہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۰) اگر آپ کا سلسلہ آپ سے ہی شروع ہو کر آپ ہی پر ختم ہو گیا تو آپ ابتر ٹھہریں گے (معاذ اللہ ) حالانکہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ یعنی تجھے تو ہم نے کثرت کے ساتھ روحانی اولا د عطا کی ہے جو تجھے بے اولا د کہتا ہے وہی ابتر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسمانی فرزند تو کوئی تھا نہیں۔اگر روحانی طور پر بھی آپ کی اولاد کوئی نہیں تو ایسا شخص خود بتاؤ کیا کہلاوے گا؟ میں تو اس کو سب سے بڑھ کر بے ایمانی اور کفر سمجھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس قسم کا خیال بھی کیا جاوے۔انا اعطينك الكوثر کسی دوسرے نبی کو نہیں کہا گیا یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا اَعْطَيْنَكَ خاصہ ہے۔آپ کو اس قدر روحانی اولاد عطا کی گئی جس کا شمار بھی نہیں ہو سکتا اس لئے کہ قیامت تک یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔روحانی اولاد ہی کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی ہیں کیونکہ آپ کے انوار و برکات کا سلسلہ برابر جاری ہے اور جیسے اولاد میں والدین کے نقوش ہوتے ہیں اسی طرح روحانی اولاد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور فیوض کے آثار اور نشانات موجود ہیں۔الْوَلَدُ سِر لِأَبِيهِ - الحاکم جلد ۹ نمبر ۳۹ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۵ صفحه ۳) فَلا شك أنَّهُ ادَهُ آخِرِ الزَّمَانِ وَالْأُمَّةُ پس شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخر زمانہ شَكَ كَالنُّرِيَّةِ لِهَذَا النّبِيِّ الْمَحْمُودِ وَإِلَيْهِ أَشَارَ کے آدم ہیں اور امت اس نبی محمود کی ذریت کی بجا ہے في قَوْلِهِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَأَمْعِن فِيْه اور اس کی طرف خدا تعالیٰ کے اس قول کا اشارہ ہے انا وَتَفَكَّرُ وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلَيْنَ۔اعطينكَ الْكَوْثَرَ پس ان معنوں میں غور اور فکر کر اور (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۲۶۱، ۲۶۲) غافلوں میں سے مت ہو۔( ترجمہ اصل کتاب سے )