تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 387
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطِنِ الرَّحِيمِ ۳۸۷ سورة الكوثر بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الكوثر بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ انا اعطينكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْن إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ ہم نے تجھ کو معارف کثیرہ عطا فرمائے ہیں سو اس کے شکر میں نماز پڑھ اور قربانی دے۔برائین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۱۸ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) یہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فر ما یا انا اعطينكَ الكوثر یہ اس وقت کی بات ہے کہ کافر نے کہا کہ آپ کی اولاد نہیں ہے۔معلوم نہیں اس نے ابتر کا لفظ بولا تھا جو اللہ تعالیٰ نے فرما یا اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ تیرا دشمن ہی بے اولا در ہے گا۔روحانی طور پر جو لوگ آئیں گے وہ آپ ہی کی اولاد سمجھے جائیں گے اور وہ آپ کے علوم و برکات کے وارث ہوں گے اور اس سے حصہ پائیں گے۔اس آیت کو مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ (الاحزاب : ۴۱) کے ساتھ ملا کر پڑھو تو حقیقت معلوم ہوجاتی ہے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد بھی نہیں تھی تو پھر معاذ اللہ آپ ابتر ٹھہرتے ہیں جو آپ کے اعداء کے لئے ہے اور انا اعطينك الكوثر سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو روحانی اولاد کثیر دی گئی ہے۔پس اگر ہم یہ اعتقاد نہ رکھیں کہ کثرت کے ساتھ آپ کی روحانی اولاد ہوئی ہے تو اس پیشگوئی کے بھی منکر ٹھہریں گے۔