تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 375
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۵ سورة الهمزة جو اس میں اور خدائے تعالیٰ میں ایک حجاب پیدا کر دیتے ہیں اور اس کے لئے ایک دوزخ تیار کر دیتے ہیں۔اس کو اس بات کا علم نہیں ہوتا جب وہ ان سب سے یکا یک علیحدہ کیا جاتا ہے۔اس گھڑی کی اسے خبر نہیں ہوتی۔تب وہ ایک سخت بے چینی میں مبتلا ہو جاتا ہے یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ کسی چیز سے جب محبت ہو تو اس سے جدائی اور علیحدگی پر ایک رنج اور دردناک غم پیدا ہو جاتا ہے۔یہ مسئلہ اب منقولی ہی نہیں بلکہ معقولی رنگ رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نَارُ اللهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَنْدَةِ - پس یہ وہی غیر اللہ کی محبت کی آگ ہے جو انسانی دل کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے اور ایک حیرت ناک عذاب اور درد میں مبتلا کر دیتی ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۱۳۵) میرے دوستوں کی نظر سے یہ امر ہرگز پوشیدہ نہ رہے کہ انسان مال و دولت یا زن و فرزند کی محبت کے جوش اور نشہ میں ایسا دیوانہ اور از خود رفتہ نہ ہو جاوے کہ اس میں اور خدا تعالیٰ میں ایک حجاب پیدا ہو جاوے مال اور اولاد اسی لئے تو فتنہ کہلاتی ہے ان سے بھی انسان کے لئے ایک دوزخ طیار ہوتا ہے اور جب وہ ان سے الگ کیا جاتا ہے تو سخت بے چینی اور گھبراہٹ ظاہر کرتا ہے اور اس طرح پر یہ بات کہ نارُ الله الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَنْدَةِ - منقولی رنگ میں نہیں رہتا بلکہ معقولی شکل اختیار کر لیتا ہے۔پس یہ آگ جو انسانی دل کو جلا کر کباب کر دیتی اور ایک جلے ہوئے کوئلہ سے بھی سیاہ اور تاریک بنادیتی ہے یہ وہی غیر اللہ کی محبت ہے۔دو چیزوں کے باہم تعلق اور رگڑ سے ایک حرارت پیدا ہوتی ہے اسی طرح پر انسان کی محبت اور دنیا اور دنیا کی چیزوں کی محبت کے رگڑ سے الہی محبت جل جاتی ہے اور دل تاریک ہوکر خدا سے دور ہو جاتا اور ہر قسم کی بیقراری کا شکار ہو جاتا ہے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۳۳ مورخه ۱۶ ستمبر ۱۹۰۰ ء صفحه ۶) جیسے بہشتی زندگی اسی دنیا سے شروع ہوتی ہے اسی طرح پر دوزخ کی زندگی بھی یہاں ہی سے انسان لے جاتا ہے جیسا کہ دوزخ کے باب میں فرمایا ہے نَارُ اللهِ الْمُوقدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَنْدَةِ _ یعنی دوزخ وہ آگ ہے جو خدا کا غضب اس کا منبع ہے اور وہ گناہ سے پیدا ہوتی اور پہلے دل پر غالب ہوتی ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس آگ کی جڑ وہ ہموم عموم اور حسرتیں ہیں جو انسان کو آگھیرتی ہیں کیونکہ تمام روحانی عذاب پہلے دل سے ہی شروع ہوتے ہیں جیسے تمام روحانی سروروں کا منبع بھی دل ہے اور دل ہی سے شروع ہونے بھی چاہئیں کیونکہ دل ہی ایمان یا بے ایمانی کا منبع ہے۔ایمان یا بے ایمانی کا شگوفہ بھی پہلے دل ہی سے نکلتا ہے اور پھر تمام بدن اور اعضاء پر اس کا عمل ہوتا ہے اور سارے جسم پر محیط ہو جاتا ہے پس یا درکھو