تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 376
سورة الهمزة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہ بہشت اور دوزخ اسی دنیا سے انسان ساتھ لے جاتا ہے اور یہ بات بھولنی نہ چاہیے کہ بہشت اور دوزخ اس جسمانی دنیا کی طرح نہیں ہے بلکہ ان دونوں کا مبدء اور منبع روحانی امور ہیں۔ہاں یہ سچی بات ہے کہ عالم معاد میں وہ جسمانی شکل پر ضرور متشکل ہو کر نظر آئیں گے۔(الحکم جلد ۵ نمبر ۴۲ مورخه ۷ ارنومبر ۱۹۰۱ صفحه ۲) کوئی عذاب باہر سے نہیں آتا بلکہ خود انسان کے اندر ہی سے نکلتا ہے۔ہم کو اس سے انکار نہیں کہ عذاب خدا کا فعل ہے۔بے شک اسی کا فعل ہے مگر اسی طرح جیسے کوئی زہر کھائے تو خدا اسے ہلاک کر دے۔پس خدا کا فعل انسان کے اپنے فعل کے بعد ہوتا ہے۔اس کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے نَارُ الله الْمُوْقَدَةُ - الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْآفدَةِ۔یعنی خدا کا عذاب وہ آگ ہے جس کو خدا بھڑ کاتا ہے اور اس کا شعلہ انسان کے دل سے ہی اٹھتا ہے۔اس کا مطلب صاف لفظوں میں یہی ہے کہ عذاب کا اصل پیج اپنے وجود ہی کی ناپا کی ہے جو عذاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ا مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۲ صفحه ۵) اللہ تعالیٰ کا عذاب ایک آگ ہے جس کو وہ بھڑکاتا ہے اور انسان کے دل ہی پر اس کا شعلہ بھڑکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ عذاب الہی اور جہنم کی اصل جڑ انسان کا اپنا ہی دل ہے اور دل کے نا پاک خیالات اور گندےارادے اور عزم اس جہنم کا ایندھن ہیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۳) دعا کی حقیقت سے ناواقف رہنے کی صورت میں ذرا ذراسی نامرادی بھی آتش جہنم کی ایک لپٹ ہو کر دل پر مستولی ہو جاتی ہے۔اور گھبرا گھبرا کر بیقرار کیے دیتی ہے اسی کی طرف ہی اشارہ ہے نَارُ الله الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الأفدة۔بلکہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بھی نار جہنم کا ایک نمونہ ہے۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۱ صفحه ۱۴)