تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 372

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیش کرنا ہوتا ہے ۔ ۳۷۲ سورة العصر الحکم جلد ۵ نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۱ ء صفحه ۲) ♡ سورۃ العصر میں دنیا کی تاریخ موجود ہے جس پر خدا تعالیٰ نے اپنے الہام سے مجھ کو اطلاع دی ہے اور یہ اصلی اور سچی تاریخ ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کس قدر زمانہ گزرا ہے۔ پس اس حساب سے اب ساتویں ہزار سے کچھ سال گزر گئے اور خاتم الخلفاء چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہوا تا که اول را بآخر نسبتی دارد کا مصداق ہو ۔ آدم بھی چھٹے دن پیدا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن ایک ہزار سال کا ہوتا ہے اس چھ دن کے چھ ہزار ہوئے اور پھر آدم کی پیدائش چھٹے دن کے آخر میں ہوئی تھی اس لئے خاتم الخلفاء بھی چھٹے ہزار کے آخر میں ہوا اور ساتویں میں جنگ ہے۔ اس جنگ سے توپ و تفنگ کی لڑائی مراد نہیں بلکہ یہ عیسائیت اور الہی دین کی آخری جنگ ہے۔ عیسائیت نے زمینی خدا بنا لیا ہے اور یہ وہی خدا یا خیالی خدا ہے جیسے بہت سی عورتیں ایک وہمی حمل رجا کا کر لیتی ہیں یہاں تک کہ پیٹ میں وہمی طور پر حرکت بھی معلوم ہوتی ہے اور پیٹ بڑھتا بھی ہے۔ اسی طرح پر فرضی مسیح بنا لیا گیا ہے جسے خدا سمجھا گیا ہے۔ غرض سچے مسیح کے مقابل وہ کھڑا ہے ۔ اب یہ لڑائی ان دونوں میں شروع ہے اور خدا اس میں اپنا چمکتا ہوا ہاتھ دکھلائے گا۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۵ مورخہ ۷ ارجولائی ۱۹۰۲ء صفحہ ۶ ) وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ۔۔۔۔۔۔ ان کی عادت ہے کہ اوروں کو بھی سچ کی نصیحت دیتے ہیں۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۱) انسان کا فرض ہے کہ دوسروں کو نفع پہنچائے اور اس کی صورت یہ ہے ان کو خدا کی محبت پیدا کرنے اور اس کی توحید پر قائم ہونے کی ہدایت کرے جیسا کہ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ سے پایا جاتا ہے۔ انسان بعض وقت خود ایک امر کو سمجھ لیتا ہے لیکن دوسروں کو سمجھانے پر قادر نہیں ہوتا اس لئے اس کو چاہیے کہ محنت اور کوشش کر کے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاوے۔ ہمدردی خلائق یہی ہے کہ محنت کر کے دماغ خرچ کر کے ایسی راہ نکالے کہ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۲ء صفحه (۴) دوسروں کو فائدہ پہنچا سکے تا کہ عمر دراز ہو۔