تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 359

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۵۹ سورة العصر كُنْتُمْ صَالِحِينَ فَأَيْنَ التَّقْوَى؟ اور دوسری علامتیں پوری ہوتی نہیں دیکھیں۔اگر تم صالح تو أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ عَلِمْتُمْ مِمَّا ذَكَرْنَا تقویٰ کہاں گیا۔مِنْ قَبْلُ أَنَّ أَعْدَادَ سُورَةِ الْعَصْرِ اے لوگو! تم معلوم کر چکے ہو جو ہم نے پہلے ذکر کیا ہے بِحِسَابِ الْجُمَلِ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ الزَّمَانَ که حساب جمل کے لحاظ سے سورہ عصر کے اعداد اس بات الْمَاضِي مِنْ وَقْتِ أَدَمَ إِلى نُزُولِ هذه پر دلالت کرتے ہیں کہ آدم علیہ السلام سے اس سورۃ کے السُّورَةِ كَانَ سَبْعُ مِائَةِ سَنَةٍ بَعْدَ أَربع نزول کے زمانہ تک کا وقت چار ہزار سات سو سال کے الاف۔هَذَا مَا كَشَفَ عَلَى رَبِّي فَعَلِمْتُ قریب بنتا ہے یہ وہ بات ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بَعْدَ الْكِشَافٍ وَشَهِدَ عَلَيْهِ تَارِیخ اتفق انکشاف کیا۔سو میں نے اس انکشاف کے بعد حقیقت کو عَلَيْهِ جَمْهُورُ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ غَيْرِ جان لیا اور تاریخ نے بھی اس کے درست ہونے کی شہادت خِلَافٍ، وَقَد زَادَ عَلى تِلْكَ الْمُدَّةِ إلى دے دی اور بغیر اختلاف کے جمہور اہلِ کتاب بھی اس يَوْمِنَا هَذَا ثَلَاثُ مِائَةٍ بَعْدَ الْأَلْفِ وَإِذَا سے متفق ہیں اور اس مدت پر ہمارے اس دن تک تیرہ سو جَمَعْنَاهُمَا فَهُوَ سِتَّةُ الافٍ كَمَا هُوَ سال مزید گزر چکے ہیں۔اور جب ہم ان دونوں مدتوں مَذْهَبُ الْمُحَقِّقِيْنَ مِنَ السَّلَفِ کو جمع کریں تو یہ چھ ہزار سال بن جاتے ہیں جیسا کہ خطبہ الہامی روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۳۰۳۳۲۵) سابق محققین کا مذہب ہے۔( ترجمہ از مرتب) دوسری دلیل زمانہ کے آخری ہونے پر یہ ہے کہ قرآن شریف کی سورہ عصر سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا یہ زمانہ حضرت آدم علیہ السلام سے ہزار ششم پر واقع ہے۔یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے یہ چھٹا ہزار جاتا ہے۔اور ایسا ہی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے۔لہذا آخر ہزار ششم وہ آخری حصہ اس دنیا کا ہوا جس سے ہر ایک جسمانی اور روحانی تکمیل وابستہ ہے۔کیونکہ خدائی کارخانہ قدرت میں چھٹے دن اور چھٹے ہزار کو الہی فعل کی تکمیل کے لئے قدیم سے مقرر فرمایا گیا ہے۔مثلاً حضرت آدم علیہ السلام چھٹے دن میں یعنی بروز جمعہ دن کے اخیر حصے میں پیدا ہوئے یعنی آپ کے وجود کا تمام و کمال پیرا یہ چھٹے دن ظاہر ہوا گو خمیر آدم کا آہستہ آہستہ طیار ہورہا تھا اور تمام جمادی نباتی حیوانی پیدائشوں کے ساتھ بھی شریک تھا لیکن کمال خلقت کا دن چھٹا دن تھا۔اور قرآن شریف بھی گو آہستہ آہستہ پہلے سے نازل ہو رہا تھا مگر اس کا کامل وجود بھی چھٹے دن ہی بروز جمعہ اپنے کمال کو پہنچا اور آیت اليوم