تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 358
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۸ سورة العصر الْإِسْلَامِ الْمَوْءُوْدِ۔وَتَمَّتْ مُحجَّةُ اللهِ عَلَيْكُمْ اے منکر و! تم پر اللہ کی حجت پوری ہوگئی۔پس تم اللہ أَيُّهَا الْمُنْكِرُونَ، فَلَا تَكُونُوا مِنَ الظَّانِيْنَ پر بد گمانی کرنے والے نہ بنو۔اور اے گننے والو! بِاللهِ ظَنّ السَّوْءِ ، وَ عُدُّوا أَيَّامَ اللهِ أَيُّهَا اللہ تعالیٰ کے دنوں کو گنو۔اور اللہ کا وعدہ یقینا سچا ہے۔الْعَادُونَ۔وَإِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ پس تمہیں یہ دنیوی زندگی اور شیطان لعین دھوکہ نہ دے۔الْحَيَاةُ الدُّنْيَا، وَلَا يَغُرَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ اے خطا کار مجاہدو! یہ زمانہ بڑی جنگ کا زمانہ ہے اور الْمَلْعُونُ وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ مَلْحَمَةٍ نزول مسیح اور شیطان کے سخت غضب کے ساتھ نکلنے کا عُظمى أَيُّهَا الْمُجَاهِدُونَ الْخَاطِمُونَ، وَأَيَّامُ زمانہ ہے جسے پہلوں نے نہیں دیکھا شیطان نے دیکھ نُزُولِ الْمَسِيحِ وَخُرُوجِ الشَّيْطَانِ بِغَضَبِ لیا ہے کہ اس کا زمانہ ختم ہو گیا اور اس کو دی گئی مہلت کی مَّا رَاهُ السَّابِقُونَ۔فَإِنَّ الشَّيْطَانَ رَأَى میعاد پوری ہوگئی اور یوم بعث آ گیا اور اس کو دی گئی الزَّمَانَ قَدِ انْقَضَى، وَإِنَّ وَقْتَ الْمُهْلَةِ مَطى، مهلت صرف اس دن تک تھی جبکہ مردوں نے اٹھائے وَيَوْمُ الْبَعْثِ أَلَى، وَمَا كَانَتِ الْمُهْلَةُ إِلَّا إِلى جانا تھا۔یہ خدائے رحمن کا وعدہ تھا۔اور مرسلوں نے جو يَوْمٍ يُبْعَثُونَ۔هَذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمنُ وَصَدَقَ کہا تھا وہ سچ ثابت ہو گیا۔اور وہ لوگ جو قرآن مجید کی الْمُرْسَلُونَ۔وَ إِنَّ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِيهِ شہادت آجانے کے بعد بھی اس کے بارے میں جھگڑا بَعْدَمَا أَتَتْهُمْ شَهَادَةٌ مِنَ الْفُرْقَانِ إِن في کرتے ہیں ان کے سینوں میں کبر ہے اور انہیں اس صُدُورِهِمْ إِلَّا كِبْرُ، وَمَا بَقِيَ لَهُمْ حَقٌّ دلیل سے انکار کرنے کا کوئی حق نہیں جو خدائے رحمن کی لِيَكْفُرُوا بِسُلْطَانٍ نَزَلَ مِنَ الرَّحْمَنِ، وتمت طرف سے آئی ہے۔ان پر فیصلہ کرنے والے خدا کی عَلَيْهِمْ حُبَّةُ اللهِ الشَّيَانِ۔لَا يُرِيدُونَ الْحَقِّ حجت پوری ہو گئی۔وہ حق اور ہدایت کو قبول کرنا نہیں وَلَا الْهُدَى، وَيُنْفِدُونَ الْأَعْمَارَ فَرِحِينَ چاہتے۔اور وہ اپنی عمریں اس دنیا کی نعمتوں پر خوش مُسْتَبْشِرِيْنَ بِهذِهِ الدُّنْيَا أَلَمْ يَأْتِهِمْ مَا أَتَى ہو کر ختم کر رہے ہیں۔کیا ان کے پاس وہ بات نہیں آئی الْأُمَمَ الْأُوْلى أَلَمْ يَرَوْا آيَاتٍ كُبرى؟ أَمَا جو پہلی امتوں کے پاس آئی تھی۔کیا انہوں نے عظیم جَاءَ رَأْسُ الْمَائَةِ وَفَسَادُ الْأُمَّةِ، وَالْفِتَنُ الشان نشانات نہیں دیکھے۔کیا انہوں نے صدی کا سر الْعُظمى مِنْ أَعْدَاءِ الْمِلَّةِ، وَالْكُسُوفُ اور فساد امت اور اعدائے ملت کی طرف سے بڑے وَالْخُسُوفُ فِي رَمَضَانَ وَمَعَالِمُ أُخْرَى فَإِن بڑے فتنے اور رمضان کے مہینہ میں خسوف و کسوف