تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 351

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۵۱ سورة العصر ،، ،،، وو وو وَكَمِثْلِهِ يُفْهَمُ مِنْ حَدِيثِ مِنْبَرِ ذی والے منبر والی حدیث کا ہے جس کے معنے ہم نے اس کے سَبْع دَرَجَاتٍ مَغنِّى بَيِّنَاهُ فِی مَوْضِعِهِ مقام پر ہماری تحریرات پر نظر رکھنے والوں کے لئے بیان لِلنَّاظِرِينَ۔وَلَمَّا ثَبَتَ أَنَّ هَذَا الْقَند کئے ہیں۔اور جب یہ ثابت ہو گیا کہ خیر الوریٰ رسول اللہ مِن عُمرِ الدُّنْيَا كَانَ مُنْقَضِبًا إلى عَهْدِ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک دنیا کی عمر سے اتنا ہی عرصہ رَسُولِ اللهِ خَيْر الْوَرى ثَبَتَ مَعَهُ أَنَّ گزرا تھا تو اس کے ساتھ یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ عمر دنیا الْقَدْدَ الْبَاقِي مَا كَانَ إِلَّا أَقَلُ مِقْدَارًا میں سے باقی ماندہ عرصہ گذشتہ عرصہ کی نسبت بہت کم رہ گیا نِسْبَةً إِلى مَا مَطَى فَإِنَّ الْقُرْآنَ ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے کئی مرتبہ اس بات کو وضاحت الْكَرِيمَ طَرحَ مِرَارًا بِأَنَّ السَّاعَةَ سے بیان کیا ہے کہ قیامت کی گھڑی اب قریب ہے اور اس قَرِيبَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَقَالَ اقْتَرَبَ امر میں کسی شہر کی گنجائش نہیں۔پھر ایک مقام پر فرمایا کہ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَقَالَ اقْتَرَبَتِ لوگوں کے حساب کا وقت قریب آن پہنچا ہے پھر کہا کہ الساعة ٢٠ وَقَالَ فَقَدُ جاءَ قیامت کی گھڑی بالکل قریب ہے اور اس کے ساتھ ہی کہا اَشْرَاطِهَا۔وَكَذَالِكَ تُوْجَدُ فِيهِ في کہ اس کی علامات بھی ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں۔اس هذَا الْبَابِ ايَاتٌ أُخْرَى، فَعَلِمَ مِنْهَا مضمون سے متعلق قرآن مجید میں کئی اور آیات بھی پائی جاتی بالقطع وَالْيَقِينِ يَا أُولى اللهى آن ہیں۔اے عقلمندو! ان آیات سے یہ بات قطعی اور یقینی طور الحصَّةَ الْبَاقِيَةَ مِن الدُّنْيَا أُقل من پر معلوم ہوتی ہے کہ دنیا کی عمر کا باقی حصہ اس وقت سے زَمَانِ انقطى حَتَّى إِنَّ أَشراط السَّاعَةِ بہت کم ہے جو گزر چکا یہاں تک کہ علامات قیامت ظاہر ظَهَرَتْ وَيَوْمُ الْوَعْدِ دَلى، وَقَرُبَ الآتي ہوئیں اور وعدے کا دن قریب آگیا اور آنے والا وقت وَبَعُد مَا مَطَى فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَڑی قریب آ گیا اور گزرا ہوا وقت دور چلا گیا پس تو اپنی نظر اس مِن كِلْبٍ فِيْهِ وَالسّلامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ پر بار بار ڈال کیا تو اس امر میں کوئی خلاف واقعہ بات دیکھتا الْهُدَى وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ الْمُدَّةَ ہے۔اور اس شخص پر اللہ کی سلامتی نازل ہو جو ہدایت کی الْمُنقَضِيَّةَ مِنْ وَقْتِ آدَمَ إِلى عَهْدِ پیروی کرے اور تم یہ معلوم کر چکے ہو کہ آدم علیہ السلام کے نبِيْنَا الْمُصْطفى كانَتْ فَرِيْبَةٌ من زمانہ سے ہمارے نبی مصطفییٰ تک پانچ ہزار سال کے قریب خَمْسَةِ الابِ، وَقَدْ شَهِدَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ مدت گزر چکی ہے اور اس کی صداقت پر قرآن مجید نے الانبیاء : ٢ - القمر : ۲ ۳ محمد : ۱۹