تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 350

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۰ سورة العصر أَعْدَادِهَا عُمَرُ الدُّنْيَا مِنْ آدم إلى نبينا میں دین کی سمجھ رکھنے والوں کے لئے آدم سے لے کر لِقَوْمٍ يَتَفَقَّهُونَ۔وَهُذَا هُوَ الْعُمُرُ الَّذِى ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت تک دنیا کی يَعْلَمُهُ أَهْلُ الْكِتَابِ فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ عمر بیان کی گئی ہے اور یہ وہ عمر ہے جس کو اہلِ کتاب بھی كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔وَلَا فَرْقَ بَيْنَ عِدَّةٍ جانتے ہیں۔اگر تم نہیں جانتے تو تم ان سے پوچھ لو اور سورہ سُوْرَةِ الْعَصْرِ وَعِدَّتِهِمْ إِلَّا الْفَرْقُ بَيْنَ عصر کی بیان کردہ گنتی اور اہلِ کتاب کی گنتی میں کوئی فرق أَيَّامِ الشَّمْسِ وَأَيَّامِ الْقَمَرِ، فَعُدُّوهَا إِن نہیں سوائے اس کے جو سورج کے دنوں کے حساب اور كُنتُمْ تَشكُونَ وَإِذَا تَقَرّر هذا چاند کے دنوں کے حساب میں ہوتا ہے۔اگر تمہیں کچھ شک فَاعْلَمُوا أَبي وُلِدتُ في اخر الأَلف ہو توتم گنتی کر کے دیکھ لو۔اور جب یہ بات متحقق ہو گئی تو تمہیں السادس بهذا الْحِسَابِ وَإِنَّهُ يَوْمُ علم ہونا چاہیے کہ اس حساب سے میں چھٹے ہزار کے آخر میں خَلْقِ ادَمَ ، وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّنَا كَالْفِ پیدا کیا گیا ہوں اور یہ حضرت آدم کی پیدائش کا دن ہے۔اور سَنَةٍ مَا تَعُدُّونَ وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ اور ہمارے رب کا ایک دن انسانی گنتی کے لحاظ سے ایک مَا كَتَبْنَا مِنْ أَنَّهُ مِنْ أَيَّامٍ سلسلة ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس کے أدَمَ ما بَقى إلى يَوْمِنَا هَذَا إِلَّا أَلف بارے میں اگر تمہیں کوئی شک ہو کہ آدم علیہ السلام کے سَنَةٍ أَوْ مَعَهُ قَلِيْلٌ مِنْ سِنين فتعالوا سلسلہ کے وقت سے لے کر ہمارے آج کے دن تک صرف تقيتُه لَكُم مِن كِتَابِ اللهِ وَمِنَ ایک ہزار سال یا اس کے ساتھ چند اور سال عمر دنیا میں سے الحَدِيث وَمِن كُتُبِ النَّبِيِّين باقی رہ گئے ہیں۔تو آؤ ہم تمہیں یہ بات خدا کی کتاب السَّابِقِينَ۔فَإِنَّ أَعْدَادَ سُورَةِ الْعَضر (قرآن مجید) اور حدیث اور پہلے انبیاء کے صحیفوں سے بِحِسَابِ الْجُمَلِ، كَمَا كُشِفَ عَلَى مِنَ الله ثابت کر دیتے ہیں جیسا کہ وہاب خدا نے مجھ پر انکشاف الْوَهَّابِ وَكَمَا هُوَ مُتَوَاتِرٌ عِنْدَ أَهْلِ فرمایا ہے کہ سورہ عصر کے اعداد بحساب جمل نیز اہل کتاب الْكِتَابِ يَهْدِى إِلى أَنَّ الزَّمَانَ إلى عَهْدِ کے ہاں جو روایت تواتر کے ساتھ چلتی آرہی ہے وہ اس طرف خَاتَمِ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ مُنْقَضِبًا إلى خَمْسَةِ راہنمائی کرتی ہے کہ اول النبیین حضرت آدم علیہ السلام الافٍ مِنْ أَدَمَ أَوَّلِ النَّبِيِّينَ۔وَمَا كَانَ سے لے کر خاتم الانبیاء کے زمانہ تک سوائے چند سو سال کے بَاقِيًا مِنَ الْخَامِ إِلَّا قَلِيلٌ مِنْ مِقَيْنِ پانچ ہزار سال گزر چکے تھے۔اور اسی قسم کا مفہوم سات درجوں