تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 346
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۶ سورة التكاثر یہاں تک کہ جیسا کہ آسمان پر سُورج نظر آتا ہے ویسا ہی بغیر کسی فرق کے اس مصلی پانی یا آئینہ میں نظر آتا ہے۔پس روحانی طور پر انسان کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی کمال نہیں کہ وہ اس قدر صفائی حاصل کرے کہ خدا تعالی کی تصویر اُس میں کھینچی جائے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (البقرة : ۳۱) یعنی میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔یہ ظاہر ہے کہ تصویر ایک چیز کی اصل صورت کی خلیفہ ہوتی ہے یعنی جانشین۔اور یہی وجہ ہے کہ جس جس موقعہ پر اصل صورت میں اعضا واقع ہوتے ہیں اور خط و خال ہوتے ہیں اُس اُسی موقعہ پر تصویر میں بھی ہوتے ہیں اور حدیث شریف اور نیز توریت میں بھی ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا۔پس صورت سے مراد یہی روحانی تشابہ ہے۔اور پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ جب مثلاً ایک نہایت صاف آئینہ پر آفتاب کی روشنی پڑتی ہے تو صرف اسی قدر نہیں ہوتا کہ آفتاب اس کے اندر دکھائی دیتا ہے بلکہ وہ شیشہ آفتاب کی صفات بھی ظاہر کرتا ہے اور وہ یہ کہ اُس کی روشنی انعکاسی طور پر دوسرے پر بھی پڑ جاتی ہے۔پس یہی حال روحانی آفتاب کی تصویر کا ہوتا ہے کہ جب ایک قلب صافی اُس سے ایک انعکاسی شکل قبول کر لیتا ہے تو آفتاب کی طرح اُس میں سے بھی شعائیں نکل کر دوسری چیزوں کو منور کرتی ہیں گویا تمام آفتاب اپنی پوری شوکت کے ساتھ اُس میں داخل ہو جاتا ہے۔اور پھر اس جگہ ایک اور نکتہ قابل یادداشت ہے اور وہ یہ کہ تیسری قسم کے لوگ بھی جن کا خدا تعالیٰ سے کامل تعلق ہوتا ہے اور کامل اور مصفی الہام پاتے ہیں قبول فیوض الہیہ میں برابر نہیں ہوتے اور ان سب کا دائرہ استعداد فطرت باہم برابر نہیں ہوتا بلکہ کسی کا دائرہ استعداد فطرت کم درجہ پر وسعت رکھتا ہے اور کسی کا زیادہ وسیع ہوتا ہے اور کسی کا بہت زیادہ اور کسی کا اس قدر جو خیال و گمان سے برتر ہے اور کسی کا خدا تعالیٰ سے رابطہ محبت قوی ہوتا ہے اور کسی کا اقومی اور کسی کا اس قدر کہ دنیا اُس کو شناخت نہیں کر سکتی اور کوئی عقل اُس کے انتہا تک نہیں پہنچ سکتی۔اور وہ اپنے محبوب از لی کی محبت میں اس قدر محو ہوتے ہیں کہ کوئی رگ وریشہ اُن کی ہستی اور وجود کا باقی نہیں رہتا اور یہ تمام مراتب کے لوگ بموجب آیت حلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (الانبياء : ٣٣) اپنے دائرہ استعداد فطرت سے زیادہ ترقی نہیں کر سکتے۔اور کوئی اُن میں سے اپنے دائر کہ فطرت سے بڑھ کر کوئی نور حاصل نہیں کر سکتا اور نہ کوئی روحانی تصویر آفتاب نورانی کی اپنی فطرت کے دائرہ سے بڑھ کر اپنے اندر لے سکتا ہے اور خدا تعالیٰ ہر ایک کی استعداد فطرت کے موافق اپنا چہرہ اُس کو دکھا دیتا ہے اور فطرتوں کی کمی بیشی کی وجہ سے وہ چہرہ کہیں چھوٹا ہو جاتا ہے اور کہیں بڑا جیسے مثلاً ایک بڑا چہرہ ایک آرسی کے شیشہ میں ا