تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 337

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۷ سورة الزلزال ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی بدیاں ان کو معاف کر دیتا ہے۔کسی کو یہ دھوکہ نہ لگے کہ قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَراً ير ا یعنی جو شخص ایک ذرہ بھی شرارت کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا پس یادر ہے کہ اس میں اور دوسری آیات میں کچھ تناقض نہیں کیونکہ اس شر سے وہ شر مراد ہے جس پر انسان اصرار کرے اور اس کے ارتکاب سے باز نہ آوے اور توبہ نہ کرے۔اسی غرض سے اس جگہ شر کا لفظ استعمال کیا ہے نہ ذنب کا۔تا معلوم ہو کہ اس جگہ کوئی شرارت کا فعل مراد ہے جس سے شریر آدمی باز آنا نہیں چاہتا ورنہ سارا قرآن شریف اس بارہ میں بھرا پڑا ہے کہ ندامت اور تو بہ اور ترک اصرار اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ تو بہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه (۲۴) بعض لوگوں پر دکھ کی مار ہوتی ہے اور وہ ان کی اپنی ہی کرتوتوں کا نتیجہ ہے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًا یرہ۔پس آدمی کو لازم ہے کہ توبہ و استغفار میں لگا رہے اور دیکھتا رہے کہ ایسا نہ ہو بداعمالیاں حد سے گزر جاویں اور خدا تعالیٰ کے غضب کو کھینچ لاویں جب خدا تعالی کسی پر فضل کے ساتھ نگاہ کرتا ہے تو عام طور پر دلوں میں اس کی محبت کا القا کر دیتا ہے لیکن جس وقت انسان کا شر حد سے گزر جاتا ہے اس وقت آسمان پر اس کی مخالفت کا ارادہ ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کے منشاء کے موافق لوگوں کے دل سخت ہو جاتے ہیں مگر جونہی وہ توبہ و استغفار کے ساتھ خدا کے آستانہ پر گر کر پناہ لیتا ہے۔تو اندر ہی اندر ایک رحم پیدا ہو جاتا ہے اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ اس کی محبت کا پیچ لوگوں کے دلوں میں بو دیا جاتا ہے۔غرض تو بہ واستغفار کا ایسا مجرب نسخہ ہے کہ خطا نہیں جاتا۔الحکم جلد ۳ نمبر ۷ امورخه ۱۲ مئی ۱۸۹۹ صفحه ۵) افسوس وجودی کی حالت پر کہ خدا بھی بنا پھر اس سے کچھ نہ ہوا۔پھر عجب تر یہ ہے کہ یہ خدائی اس کو دوزخ سے نہیں بچاسکتی کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَراً تیرہ۔پس جب کوئی گناہ کیا تو اس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے جہنم میں جانا پڑا اور ساری خدائی باطل ہو گئی۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۱ صفحه ۳) ضروری اور واقعی طور پر یہ سزا ئیں نہیں ہیں جو یہاں دی جاتی ہیں بلکہ یہ ایک ظل ہے اصل سزاؤں کا اور ان کی غرض ہے عبرت۔دوسرے عالم کے مقاصد اور ہیں اور وہ بالا تر اور بالاتر ہیں۔وہاں تو مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَةُ کا