تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 336
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۳۶ سورة الزلزال قرض کا اس سے پایا جاتا تھا اس لئے یہی کہہ دیا مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا (البقرة : ۲۴۶) اور اس کی تفسیر اس آیت میں موجود ہے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَةُ - الحکم جلد ۵ نمبر ۲۱ مورخه ۱۰/جون ۱۹۰۱ء صفحه ۳) اس وقت ثواب کے لئے مستعد ہو جاؤ اور یہ بھی مت سمجھو کہ اگر اس راہ میں خرچ کریں گے تو کچھ کم ہو جاوے گا خدا تعالیٰ کی بارش کی طرح سب کمیاں پر ہو جائیں گی۔مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَةُ - احکم جلد ۵ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۱ ، صفحہ ۷ ) یہ سچ ہے کہ جب ایک شخص محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کسی قسم کی نفسانی اغراض کے بغیر ایک قوم سے قطع تعلق کرتا ہے اور خدا ہی کو راضی کرنے کے لئے دوسری قوم میں داخل ہوتا ہے تو ان تعلقات قومی کے توڑنے میں سخت تکلیف اور دکھ ہوتا ہے مگر یہ بات خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑی قابل قدر ہے اور یہ ایک شہادت ہے جس کا بہت بڑا اجر اللہ تعالیٰ کے حضور ملتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَةٍ خَيْرًا يَرَة یعنی جو شخص ایک ذرہ برابر بھی نیکی کرتا ہے اسے بھی ضائع نہیں کرتا بلکہ اجر دیتا ہے تو پھر جوشخص اتنی بڑی نیکی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک موت اپنے لئے روا رکھتا ہے اسے اجر کیوں نہ ملے؟ الحکم جلد 4 نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ صفحه ۲) اگر اخلاص ہو تو اللہ تعالی تو ایک ذرہ بھی کسی نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔اس نے تو خود فرمایا ہے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَةُ اس لئے اگر ذرہ بھر بھی نیکی ہو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر پائے گا۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۷ ۱ مورخہ ۷ ارمئی ۱۹۰۶ صفحه ۵) کیا وجہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر تقول علی اللہ کریں تو ان کو تو گرفت کی جاوے اور اگر کوئی اور کرے تو اس کی پرواہ نہ کی جاوے۔نعوذ باللہ اس طرح سے تو امان اُٹھ جاتی ہے۔صادق اور مفتری میں مابہ الامتیاز ہی نہیں رہتا۔إِنَّهُ مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ ( طه : ۵) - مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يرة - وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَةُ، إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّلِمُونَ (الانعام :۲۲)۔ان آیات سے صاف طور سے عموم ظاہر ہو رہا ہے کوئی خصوصیت نہیں۔نہ معلوم تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر افتر اعلی اللہ کریں تو خدا برا مناتا ہے مگر اگر کوئی اور یہی جرم کر دے تو خیر چنداں ہرج کی بات نہیں۔معاذ اللہ۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۸ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۵) وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُوا عَنِ السَّيَاتِ (الشوری : ۲۶ ) یعنی تمہارا خدا وہ خدا