تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 335
۔۳۳۵ سورة الزلزال تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم تو اصول ہی کو دیکھیں گے۔ہمارے اصول میں تو یہ لکھا ہے کہ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ اب اس کا اثر تم خود سوچ لو گے کیا پڑے گا۔یہی کہ انسان اعمال کی ضرورت کو محسوس کرے گا اور نیک عمل کرنے کی سعی کرے گا۔برخلاف اس کے جب یہ کہا جاوے گا کہ انسان اعمال سے نجات نہیں پاسکتا تو یہ اصول انسان کی ہمت اور سعی کو پست کر دے گا اور اس کو بالکل مایوس کر کے بے دست و پا بنا دے گا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کفارہ کا اصول انسانی قومی کی بھی بے حرمتی کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی قوی میں ایک ترقی کا مادہ رکھا ہے لیکن کفارہ اس کو ترقی سے روکتا ہے۔ابھی میں نے کہا ہے کہ کفارہ کا اعتقا در کھنے والوں کے حالات آزادی اور بے قیدی کو جو دیکھتے ہیں تو یہ اس اصول کی وجہ سے ہے کہ کتے اور کتیوں کی طرح بدکاریاں ہوتی ہیں۔لنڈن کے ہائیڈ پارک میں علانیہ بدکاریاں ہوتی ہیں اور حرامی بچے پیدا ہوتے ہیں پس ہم کو صرف قیل و قال تک ہی محدود نہ رکھنا چاہیے بلکہ اعمال ساتھ ہونے چاہئیں۔جو اعمال کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ سخت ناعاقبت اندیش اور نادان ہے۔قانونِ قدرت میں اعمال اور ان کے نتائج کی نظیریں تو موجود ہیں کفارہ کی نظیر کوئی موجود نہیں۔مثلاً بھوک لگتی ہے تو کھانا کھا لینے کے بعد وہ فرو ہو جاتی ہے یا پیاس لگتی ہے پانی سے جاتی رہتی ہے تو معلوم ہوا کہ کھانا کھانے یا پانی پینے کا نتیجہ بھوک کا جاتے رہنا یا پیاس کا بجھ جانا ہوا مگر یہ تو نہیں ہوتا کہ بھوک لگے زید کو اور بکر روٹی کھائے اور زید کی بھوک جاتی رہے۔اگر قانون قدرت میں اس کی کوئی نظیر موجود ہوتی تو شاید کفارہ کا مسئلہ مان لینے کی گنجائش رکھتا لیکن جب قانونِ قدرت میں اس کی کوئی نظیر ہی نہیں ہے تو انسان جو نظیر دیکھ کر ماننے کا عادی ہے اسے کیوں کر تسلیم کر سکتا ہے۔عام قانونِ انسانی میں بھی تو اس کی نظیر نہیں ملتی۔کبھی نہیں دیکھا گیا کہ زید نے خون کیا ہو اور خالد کو پھانسی ملی ہو۔غرض یہ ایک ایسا اصول ہے جس کی کوئی نظیر ہرگز موجود نہیں۔میں اپنی جماعت کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ ضرورت ہے اعمال صالحہ کی۔خدا تعالیٰ کے حضور اگر کوئی چیز جاسکتی ہے تو وہ یہی اعمال صالحہ ہیں۔الکام جلد ۵ نمبر ۲۸ مورخہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۰۱ ، صفحہ ۲) خدا تعالیٰ بدوں کسی نیکی ، دعا اور التجا اور بدوں تفرقہ کا فرو مومن کے ہر ایک کی پرورش فرما رہا ہے اور اپنی ربوبیت اور رحمانیت کے فیض سے سب کو فیض پہنچارہا ہے پھر وہ کسی کی نیکیوں کو کب ضائع کرے گا۔اس کی شان تو یہ ہے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا ير ا جو ذرہ بھی نیکی کرے اس کا بھی اجر دیتا ہے اور جو ذرہ بدی کرے گا اس کی پاداش بھی ملے گی۔یہ ہے قرض کا اصل مفہوم جو اس آیت سے پایا جاتا ہے چونکہ اصل مفہوم