تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 9
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹ سورة الطلاق ہے کہ اس کو سکھ اور آرام ملے اور اُس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی راہ مقرر کی ہے جو تقویٰ کی راہ کہلاتی ے لفظوں میں اُس کو قرآن کریم کی راہ کہتے ہیں اور یا اس کا نام صراط مستقیم رکھتے ہیں۔ ہے اور دوسرے کوئی یہ نہ کہے کہ کفار کے پاس بھی مال و دولت اور املاک ہوتے ہیں اور وہ اپنی عیش وعشرت میں منہمک اور مست رہتے ہیں ۔ میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ وہ دنیا کی آنکھ میں بلکہ ذلیل ذلیل دنیا داروں اور ظاہر پرستوں کی آنکھ میں خوش معلوم دیتے ہیں ، مگر در حقیقت وہ ایک جلن اور دکھ میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ تم نے ان کی صورت کو دیکھا ہے مگر میں ایسے لوگوں کے قلب پر نگاہ کرتا ہوں تو ایک سعیر اور سلاسل واغلال میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۳) جو خدا کے آگے تقوی اختیار کرتا ہے خدا اس کے لئے ہر ایک تنگی اور تکلیف سے نکلنے کی راہ بتا دیتا ہے اور فرمایا وَ يَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وہ متقی کو ایسی راہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے رزق آنے کا خیال و گمان بھی نہیں ہوتا ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں ۔ وعدوں کے سچا کرنے میں خدا سے بڑھ کر کون ہے؟ پس خدا پر ایمان لاؤ۔ خدا سے ڈرنے والے ہر گز ضائع نہیں ہوتے يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا ایک وسیع بشارت ہے۔ تم تقوی اختیار کرو خدا تمہارا فیل ہوگا۔ اس کا جو وعدہ ہے وہ سب پورا کر دے گا گا۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۴۲ مورخه ۱۷ رنومبر ۱۹۰۱ء صفحه ۱۴) قبض و بسط رزق کا ستر ایسا ہے کہ انسان کی سمجھ میں نہیں آتا ۔ ایک طرف تو مومنوں سے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں وعدے کئے ہیں ۔ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسبہ یعنی جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اس کے لیے اللہ کافی ہے مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ جو اللہ تعالیٰ کے لیے تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے کہ اس کو معلوم بھی نہیں ہوتا ۔۔۔ جب --- کہ اس قسم کے وعدے اللہ تعالیٰ نے فرمائے ہیں ۔ پھر باوجود ان وعدوں کے دیکھا جاتا ہے کہ کئی آدمی ایسے دیکھے جاتے ہیں جو صالح اور متقی نیک بخت ہوتے ہیں اور ان کا شعائر اسلام صحیح ہوتا ہے، مگر وہ رزق سے تنگ ہیں۔ رات کو ہے تو دن کو نہیں اور دن کو ہے تو رات کو نہیں ۔۔۔۔ غرض یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں ، مگر تجربہ دلالت کرتا ہے کہ یہ امور خدا کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے ۔ ہمارا یہ مذہب کہ وہ وعدے جو خدا تعالیٰ نے کئے ہیں کہ متقیوں کو خود اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں بیان کیا ہے۔ یہ سب سچے ہیں ۔ اور سلسلہ اہل اللہ کی طرف دیکھا جاوے تو کوئی ابرار میں سے ایسا نہیں ہے کہ بھوکا مرا