تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 8
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الطلاق علامت متقی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو نا بکا رضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا۔مثلاً ایک دوکاندار یہ خیال کرتا ہے کہ درو نگوئی کے سوا اس کا کام ہی نہیں چل سکتا اس لئے وہ درونگوئی سے باز نہیں آتا اور جھوٹ بولنے کے لیے وہ مجبوری ظاہر کرتا ہے لیکن یہ امر ہر گز سچ نہیں خدا تعالیٰ متقی کا خود محافظ ہو جاتا اور اسے ایسے موقعہ سے بچالیتا ہے جو خلاف حق پر مجبور کرنے والے ہوں۔یاد رکھو جب اللہ تعالیٰ کو کسی نے چھوڑا ، تو خدا نے اسے چھوڑ دیا۔جب رحمان نے چھوڑ دیا تو ضرور شیطان اپنا رشتہ جوڑے گا۔- یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالی کمزور ہے۔وہ بڑی طاقت والی ذات ہے۔جب اس پر کسی امر میں بھروسہ کرو گے وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا۔وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ لیکن جو لوگ ان آیات کے پہلے مخاطب تھے وہ اہل دین تھے۔ان کی ساری فکریں محض دینی امور کے لیے تھیں اور ان کے دنیوی امور حوالہ بخدا تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں فرض برکات تقویٰ میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو ان مصائب سے مخلصی بخشتا ہے جو دینی امور کے حارج ہوں۔ایسا ہی اللہ تعالیٰ متقی کو خاص طور پر رزق دیتا ہے۔یہاں میں معارف کے رزق کا ذکر کروں گا۔آنحضرت کو باوجود اُمّی ہونے کے تمام جہان کا مقابلہ کرنا تھا جس میں اہل کتاب ، فلاسفر، اعلیٰ درجہ کے علمی مذاق والے لوگ اور عالم فاضل شامل تھے لیکن آپ کو روحانی رزق اس قدر ملا کہ آپ سب پر غالب آئے اور ان سب کی غلطیاں نکالیں۔یہ روحانی رزق تھا کہ جس کی نظیر نہیں۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحه ۳۵،۳۴) اگر کوئی تم میں سے خدا سے ڈرے گا یعنی طلاق دینے میں جلدی نہیں کرے گا اور کسی بے ثبوت شبہ پر بگڑ نہیں جائے گا تو خدا اس کو تمام مشکلات سے رہائی دے گا اور اس کو ایسے طور سے رزق پہنچائے گا کہ اسے علم نہیں ہو گا کہ مجھے کہاں سے رزق آتا ہے۔آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۵۳) پھر ایک اور راہ ہے کہ انسان مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوتا ہے اور حاجات مختلفہ رکھتا ہے۔اُن کے حل اور روا ہونے کے لیے بھی تقوی ہی کو اصول قرار دیا ہے۔معاش کی تنگی اور دوسری تنگیوں سے راہ نجات تقویٰ ہی ہے۔فرمایا وَ مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ متقی کے لئے ہر مشکل سے ایک مخرج پیدا کر دیتا ہے اور اس کو غیب سے اس سے مخلصی پانے کے اسباب بہم پہنچا دیتا ہے۔اُس کو ایسے طور سے رزق دیتا ہے کہ اُس کو پتہ بھی نہ لگے۔اب غور کر کے دیکھ لو کہ انسان اور دُنیا میں چاہتا کیا ہے۔انسان کی بڑی سے بڑی خواہش دنیا میں یہی