تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 331

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٣١ سورة الزلزال اور کا نہیں نمودار ہوں گی اور کاشتکاری کی کثرت ہو جائے گی۔غرض زمین زرخیز ہو جائے گی اور انواع اقسام کی کلیں ایجاد ہوں گی یہاں تک کہ انسان کہے گا کہ یہ کیا ماجرا ہے اور یہ نئے نئے علوم اور نئے نئے فنون اور نئی نئی صنعتیں کیوں کر ظہور میں آتی جاتی ہیں تب زمین یعنی انسانوں کے دل زبان حال سے اپنے قصے سنائیں گے کہ یہ نئی باتیں جو ظہور میں آ رہی ہیں یہ ہماری طرف سے نہیں یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کی وحی ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ انسان اپنی کوششوں سے اس قدر علوم عجیبہ پیدا کر سکے۔اور یادر ہے کہ ان آیات کے ساتھ جو قرآن کریم میں بعض دوسری آیات جو آخرت کے متعلق ہیں شامل کی گئی ہیں وہ در حقیقت اُسی سنت اللہ کے موافق شامل فرمائی گئی ہیں جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے ورنہ اس میں کچھ شک نہیں کہ حقیقی اور مقدم معنی ان آیات کے یہی ہیں جو ہم نے بیان کئے اور اُس پر قرینہ جو نہایت قوی اور فیصلہ کرنے والا ہے یہ ہے کہ اگر ان آیات کے حسب ظاہر معنے کئے جائیں تو ایک فساد عظیم لازم آتا ہے۔یعنی اگر ہم اس طور سے معنے کریں کہ کسی وقت با وجود قائم رہنے اس آبادی کے جو دنیا میں موجود ہے۔ایسے سخت زلزلے زمین پر آئیں گے جو تمام زمین کے اُوپر کا طبقہ نیچے اور نیچے کا اوپر ہو جائے گا۔تو یہ بالکل غیر ممکن اورممتنعات میں سے ہے۔آیت موصوفہ میں صاف لکھا ہے کہ انسان کہیں گے کہ زمین کو کیا ہو گیا۔پھر اگر حقیقتا یہی بات سچ ہے کہ زمین نہایت شدید زلزلوں کے ساتھ زیروز بر ہو جائے گی تو انسان کہاں ہوگا جو زمین سے سوال کرے گا وہ تو پہلے ہی زلزلہ کے ساتھ زاویہ عدم میں مخفی ہو جائے گا۔علوم حسیہ کا تو کسی طرح سے انکار نہیں ہو سکتا پس ایسے معنی کرنا جو ہداہت باطل اور قرائن موجودہ کے مخالف ہوں گویا اسلام سے ہنسی کرانا اور مخالفین کو اعتراض کے لئے موقعہ دینا ہے پس واقعی اور حقیقی معنی یہی ہیں جو ابھی ہم نے بیان کئے۔اب ظاہر ہے کہ یہ تغیرات اور فتن اور زلازل ہمارے زمانہ میں قوم نصاری سے ہی ظہور میں آئے ہیں جن کی نظیر دُنیا میں کبھی نہیں پائی گئی۔پس یہ ایک دوسری دلیل اس بات پر ہے کہ یہی قوم وہ آخری قوم ہے جس کے ہاتھ سے طرح طرح کے فتنوں کا پھیلنا مقدر تھا جس نے دُنیا میں طرح طرح کے ساحرانہ کام دکھلائے اور جیسا کہ لکھا ہے کہ دجال نبوت کا دعوی کرے گا اور نیز خدائی کا دعوی بھی اس سے ظہور میں آئے گا وہ دونوں باتیں اس قوم سے ظہور میں آگئیں۔نبوت کا دعوی اس طرح پر کہ اس قوم کے پادریوں نے نبیوں کی کتابوں میں بڑی گستاخی سے دخل بے جا کیا اور ایسی بے باکانہ مداخلت کی کہ گویا وہ آپ ہی نبی ہیں جس طرف چاہا اُن کی عبارات کو پھیر لیا اور اپنے مدعا کے موافق شرحیں لکھیں اور بیا کی سے ہر یک جگہ مفتر یا نہ دخل دیا۔