تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 330

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۳۰ سورة الزلزال اَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ( الحديد : ۱۸)۔اور جیسا کہ فرماتا ہے الْبَلدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُه بِإِذْنِ رَيْهِ وَالَّذِى خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلا نَكِدا (الاعراف : ۵۹)۔ایسا ہی قرآن شریف میں بیسوں نظیر میں موجود ہیں جو پڑھنے والوں پر پوشیدہ نہیں ماسوا اس کے روحانی واعظوں کا ظاہر ہونا اور ان کے ساتھ فرشتوں کا آنا ایک روحانی قیامت کا نمونہ ہوتا ہے جس سے مردوں میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور جو قبروں کے اندر ہیں وہ باہر آ جاتے ہیں اور نیک اور بدلوگ اپنی سزا جزا پالیتے ہیں سواگر سورۃ الزلزال کو قیامت کے آثار میں سے قرار دیا جائے تو اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ ایسا وقت روحانی طور پر ایک قسم کی قیامت ہی ہوتی ہے خدائے تعالیٰ کے تائید یافتہ بندے قیامت کا ہی رُوپ بن کر آتے ہیں اور انہیں کا وجود قیامت کے نام سے موسوم ہوسکتا ہے جن کے آنے سے روحانی مردے زندہ ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور نیز اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ جب ایسا زمانہ آجائے گا کہ تمام انسانی طاقتیں اپنے کمالات کو ظاہر کر دکھا ئیں گی اور جس حد تک بشری عقول اور افکار کا پرواز ممکن ہے اُس حد تک وہ پہنچ جائیں گی اور جن مخفی حقیقتوں کو ابتدا سے ظاہر کرنا مقدر وہ ہے وہ سب ظاہر ہو جائیں گی تب اس عالم کا دائرہ پورا ہو کر یک دفعہ اس کی صف لپیٹ دی جائے گی۔محمد مَنْ عَلَيْهَا فَان - وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَالِ وَالْإِكْرَامِ - (الرحمن : ۲۸/۲۷) (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۶۱ تا ۱۶۹) اس وقت زمین پر سخت زلزلہ آئے گا اور زمین اپنے تمام خزائن اور دفائن باہر نکال دے گی یعنی علوم ارضیہ کی خوب ترقی ہو گی مگر آسمانی علوم کی نہیں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۶۹) وہ آیات جن میں اول ارضی تاریکی زور کے ساتھ پھیلنے کی خبر دی گئی ہے اور پھر آسمانی روشنی کے نازل ہونے کی علامتیں بتلائی گئی ہیں وہ یہ ہیں۔یہ سورت اِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَ اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا * وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا يَوْمَبِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحَى لَهَا یعنی آخری زمانہ اس وقت آئے گا کہ جس وقت زمین ایک ہولناک جنبش کے ساتھ جو اس کی مقدار کے مناسب حال ہے ہلائی جائے گی یعنی اہل الارض میں ایک تغیر عظیم آئے گا اور نفس اور دنیا پرستی کی طرف لوگ جھک جائیں گے اور پھر فرمایا کہ زمین اپنے تمام بوجھ نکال ڈالے گی یعنی زمینی علوم اور زمینی مکر اور زمینی چالاکیاں اور زمینی کمالات جو کچھ انسان کی فطرت میں مودع ہیں سب کی سب ظہور میں آجائیں گی اور نیز زمین جس پر انسان رہتے ہیں اپنے تمام خواص ظاہر کر دے گی اور علم طبعی اور فلاحت کے ذریعہ سے بہت سی خاصیتیں اس کی معلوم ہو جائیں گی