تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 322
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۲ سورة البينة فصاحت و بلاغت کے مراتب کے علاوہ تعلیم کی ذاتی خوبیوں اور کمالات کو اس میں بھر دیا ہے۔سورہ اخلاص ہی کو دیکھو کہ توحید کے کل مراتب کو بیان فرمایا ہے اور ہر قسم کے شرکوں کا رد کر دیا ہے۔اسی طرح سورہ فاتحہ کو دیکھو کہ کس قدر اعجاز ہے۔چھوٹی سی سورہ جس کی سات آیتیں ہیں لیکن دراصل سارے قرآن شریف کا فن اور خلاصہ اور فہرست ہے اور پھر اس میں خدا تعالیٰ کی ہستی، اس کے صفات ، دعا کی ضرورت ، اس کی قبولیت کے اسباب اور ذرائع ، مفید اور سودمند دعاؤں کا طریق ، نقصان رساں راہوں سے بچنے کی ہدایت سکھائی ہے وہاں دنیا کے کل مذاہب باطلہ کا رداس میں موجود ہے۔اکثر کتابوں اور اہل مذہب کو دیکھو گے کہ وہ دوسرے مذاہب کی برائیاں اور نقص بیان کرتے ہیں اور دوسری تعلیموں پر نکتہ چینی کرتے ہیں مگر ان نکتہ چینیوں کو پیش کرتے ہوئے یہ کوئی اہل مذہب نہیں کرتا کہ اس کے بالمقابل کوئی عمدہ تعلیم پیش بھی کرے اور دکھائے کہ اگر میں فلاں بری بات سے بچانا چاہتا ہوں تو اس کی بجائے یہ اچھی تعلیم دیتا ہوں۔یہ کسی مذہب میں نہیں۔یہ فخر قرآن شریف ہی کو ہے کہ جہاں وہ دوسرے مذاہب باطلہ کا رد کرتا ہے اور ان کی غلط تعلیموں کو کھولتا ہے وہاں اصلی اور حقیقی تعلیم بھی پیش کرتا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲،۱) یہ کتاب جو قرآن شریف ہے یہ مجموعہ ان تمام کتابوں کا ہے جو پہلے بھیجی گئی تھیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے پہلے متفرق طور پر ہر ایک امت کو جدا جدا دستور العمل بھیجا اور پھر چاہا کہ جیسا کہ ایک خدا ہے وہ بھی ایک ہو جا ئیں تب سب کو اکٹھا کرنے کے لئے قرآن کو بھیجا اور خبر دی کہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ خدا تمام قوموں کو ایک قوم بنا دے گا اور تمام ملکوں کو ایک ملک کر دے گا اور تمام زبانوں کو ایک زبان بنا دے گا۔سو ہم دیکھتے ہیں کہ دن بدن دنیا اس صورت کے قریب آتی جاتی ہے اور مختلف ملکوں کے تعلقات بڑھتے جاتے ہیں۔سیاحت کے لئے وہ سامان میسر آگئے ہیں جو پہلے نہیں تھے۔خیالات کے مبادلہ کے لئے بڑی بڑی آسانیاں ہو گئی ہیں ایک قوم دوسری قوم میں ایسی دھنس گئی ہے کہ گویا وہ دونوں ایک ہونا چاہتی ہیں۔بڑے اور مشکل سفر بہت سہل اور آسان ہو گئے ہیں اب روس کی طرف سے ایک ریل طیار ہو رہی ہے کہ جو چالیس دن میں تمام دنیا کا دورہ ختم کر لے گی اور خبر رسانی کے خارق عادت ذریعے پیدا ہو گئے ہیں۔اس سے پایا جاتا ہے خدا تعالیٰ ان مختلف قوموں کو جو کسی وقت ایک تھیں پھر ایک ہی بنانا چاہتا ہے تا پیدائش کا دائرہ پورا ہو جائے اور تا ایک ہی خدا اور ایک ہی نبی ہو اور ایک ہی دین ہو۔یہ بات نہایت معقول ہے کہ