تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 321
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۱ سورة البينة ای خدا کا نقش اپنے اندر رکھتا ہے۔غرض ایسے آدمیوں کا قدم جب اُٹھے گا وہ اسلام ہی کے میدان کی طرف اُٹھے گا۔یہ بھی تو ایک عظیم الشان اعجاز ہے۔اگر کوئی قرآن کریم کے اس معجزہ کا انکار کرے تو ایک ہی پہلو میں ہم لوگوں کو آزما لیتے ہیں۔یعنی اگر قرآن کو خدا کا کلام نہیں مانتا تو اس روشنی اور سائنس کے زمانہ میں ایسا مدعی خدائے تعالیٰ کی ہستی پر دلائل لکھے۔ہم وہ تمام دلائل قرآن کریم ہی سے نکال کر دکھا دیں گے۔اور اگر توحید الہی کی نسبت دلائل قلمبند کرے تو وہ سب دلائل بھی قرآن کریم ہی سے نکال کر دکھا دیں گے اور وہ ویسے دلائل کا دعوی کر کے لکھیں کہ یہ دلائل قرآن میں نہیں یا ان صداقتوں اور پاک تعلیموں پر لکھے جن کی نسبت ان کا خیال ہو کہ وہ قرآن کریم میں نہیں تو ہم اس کو واضح طور پر دکھلاویں گے کہ قرآن کا دعوی فیها كتب قيمة کیسا سچا اور صاف ہے اور یا اصل اور فطرتی مذہب کی بابت دلائل لکھنا چاہے تو ہم ہر پہلو سے قرآن کریم کا اعجاز ثابت کر کے دکھا ئیں گے اور بتلا دیں گے کہ تمام صداقتیں اور پاک تعلیمیں اسی میں موجود ہیں۔الغرض قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے کہ ہر ایک قسم کے معارف اور اسرار اس میں موجود ہیں لیکن ان کو حاصل کرنے کے لئے میں پھر کہتا ہوں کہ اسی قوت قدسیہ کی ضرورت ہے چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔رپورٹ جلسه سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۸۵،۸۴) قرآن شریف کی فصاحت بلاغت ایسی نہیں ہے کہ اس میں صرف الفاظ کا تتبع کیا جاوے اور معانی اور مطالب کی پروا نہ کی جاوے بلکہ جیسا اعلیٰ درجہ کے الفاظ ایک عجیب ترتیب کے ساتھ رکھے گئے ہیں اسی طرح پر حقائق اور معارف کو ان میں بیان کیا گیا ہے اور یہ رعایت انسان کا کام نہیں کہ وہ حقائق اور معارف کو بیان کرے اور فصاحت و بلاغت کے مراتب کو بھی ملحوظ رکھے۔ایک جگہ فرماتا ہے يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةٌ - فيهَا كُتُب قيمة یعنی ان پر ایسے صحیفے پڑھتا ہے کہ جن میں حقائق و معارف ہیں۔انشاء والے جانتے ہیں کہ انشاء پردازی میں پاکیزہ تعلیم اور اخلاق فاضلہ کو ملحوظ رکھنا بہت ہی مشکل ہے اور پھر ایسی مؤثر اور جاذب تعلیم دینا جو صفات رذیلہ کو دور کر کے بھی دکھا دے اور ان کی جگہ اعلیٰ درجہ کی خوبیاں پیدا کر دے۔عربوں کی جو حالت تھی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں وہ سارے عیبوں اور برائیوں کا مجموعہ بنے ہوئے تھے اور صدیوں سے ان کی یہ حالت بگڑی ہوئی تھی مگر کس قدر آپ کے فیوضات اور برکات میں قوت تھی کہ تیس برس کے اندر کل ملک کی کایا پلٹ دی یہ تعلیم ہی کا اثر تھا۔ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت بھی اگر قرآن شریف کی لے کر دیکھی جاوے تو معلوم ہوگا کہ اس میں