تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 313
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۳ سورة القدر صرف اپنے بے بنیاد اوہام کے تابع ہیں بلکہ یہ تو آسمانی مصلح کے پیدا ہونے کی علامات خاصہ ہیں اور اس آفتاب کے گرد ذرات کی مانند ہیں۔ہاں اس حقیقت کو دریافت کرنا ہر ایک کا کام نہیں۔ایک دنیا دار کی دود آمیز نظر اس نور کو دریافت نہیں کر سکتی دینی صداقتیں اس کی نظر میں ایک ہنسی کی بات ہے اور معارف الہی اس کے خیال میں بیوقوفیاں ہیں۔(شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۲، ۳۱۴) فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي هَذِهِ السُّوْرَةِ اس صورت میں اللہ عز وجل فرماتا ہے کہ ملائکہ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ وَالرُّوحَ تَنَزَّلُونَ فِي تِلْكَ اور روح ليلة القدر میں اپنے رب کے اذن سے اللَّيْلَةِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ، وَيَمْكُتُونَ فِي الْأَرْضِ اترتے ہیں اور طلوع فجر تک زمین میں ہی ٹھہرتے ہیں إلى مطلع الْفَجْرِ، فَإِذَا نَزَلَتِ الْمَلائِكَةُ اور جب اس رات تمام کے تمام فرشتے زمین پر اتر گئے كُلُّهُمْ فى تلك اللَّيْلَةِ إلَى الْأَرْضِ فَلَزِمَ تو تمہارے اعتقاد کے مطابق یہ لازم آیا کہ سارے کا بِنَاءً عَلَى اعْتِقَادِكَ أَنَّ تَبْقَى السَّمَاءِ كُلَّهَا سارا آسمان ان کے نزول کے بعد خالی ہو جائے۔۔۔۔۔خَالِيَةً بَعْدَ نُزُولِهِمْ ، وَ أَنْتَ تَعْلَمُ اور تمہیں معلوم ہے کہ ہدایت گمراہی سے الگ ہوگئی أَنَّ الرُّشْد قَدْ تَبَيِّنَ مِنَ الْغَيْ۔وَلَنْ تَسْتَطِيعَ ہے اور تم اس بات پر طاقت نہیں رکھتے کہ کوئی ایسی أَن تُخْرِجَ لَنَا حَدِيثًا دَالَّا عَلى أَنَّ السَّمَاء حدیث پیش کر سکو جو اس بات پر دلالت کرے کہ زمین تَبْقَى خَالِيَةً بَعْدَ نُزُولِ الْمَلَائِكَةِ إِلَى پر فرشتوں کے نزول کے بعد آسمان خالی ہوجاتا الْأَرْضِ ہے۔(ترجمہ از مرتب) (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۷۶) وَالْحَقُ أَنَّ لِلْمَلَكِ لِمَّةً بِقَلْبِ بَنِي آدَمَ حق بات یہ ہے کہ فرشتے بنی آدم کے دلوں پر وَلِلشَّيَاطِيْن لِمَّةٌ، فَإِذَا أَرَادَ الله أَن يُبْعَثُ اترتے ہیں اور اسی طرح شیاطین بھی۔پس جب مُصْلِحًا مِنْ رَّسُولٍ أَوْ نَبِي أَوْ مُحَدَّبِ اللہ تعالیٰ کسی مصلح یعنی رسول، نبی یا محدث کو دنیا میں فَيُقَوَى لِمَّةَ الْمَلَكِ وَيَجْعَل استعدادات مبعوث کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ فرشتوں کے نزول النَّاسِ قَرِيبَةٌ لِقُبُولِ الْحَقِّ وَيُعْطِيهِمُ کو قوت دیتا ہے اور لوگوں کی استعدادوں کو قبول حق لَهُمْ عَقْلًا وَفَهَبًا وَهِمَةٌ وَقُوَّةَ تَحَملِ کے قریب کر دیتا ہے اور انہیں عقل ، فہم ، ہمت اور الْمَصَائِبِ وَنُورَ فَهُمِ الْقُرْآنِ مَا كَانَتْ مصائب کو برداشت کرنے والی قوت عطا کرتا ہے اور