تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 314

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۴ سورة القدر وطبيعتهم، لَّهُمْ قَبْلَ ظُهُورِ ذلِكَ الْمُصْلِح فَتَضفى فہم قرآن کا وہ نور بخشتا ہے جو اس مصلح کے ظہور سے قبل انہیں الْأَنْهَانُ وَتَتَقَوَى الْعُقُولُ وَتَعْلُو حاصل نہیں تھا۔پس ذہن صاف ہو جاتے ہیں اور عقلیں الْهِمَمُ، وَيَجِدُ كُلُّ أَحَدٍ كَأَنَّهُ أُوقظ من تقویت پکڑتی ہیں اور ہمتیں بلند ہو جاتی ہیں اور ہر شخص یوں تَوْمِهِ، وَكَانَ نُورًا يَنزِلُ مِنْ غَيْبِ عَلی محسوس کرتا ہے کہ گویا اسے نیند سے جدا کر دیا گیا ہے اور یہ کہ قَلْبِهِ وَكَأَنَّ مُعَلَّمًا قَامَ بِبَاطِنِهِ غیب سے ایک نور اس کے قلب پر نازل ہو رہا ہے اور کوئی وَيَكُونُ النَّاسُ كَأَنَّ اللهَ بَلَّلَ مِزَاجَهُمُ معلم اس کے خود اندر سے کھڑا ہو گیا ہے اور لوگوں کی حالت وشل أَذْهَاتَهُمُ ایسی ہو جاتی ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ نے ان کے مزاج اور ان کی وَأَفَكَارَهُمْ فَإِذَا ظَهَرَتْ وَاجْتَمَعَتْ طبیعت کو بدل دیا ہے اور ان کے اذہان اور افکار کو تیز کر دیا هذِهِ الْعَلَامَاتُ كُلُهَا فَتَبَلُ بدَلالة ہے۔پس جب یہ علامات ظاہر ہو جائیں اور سب کی سب جمع قطعِيَّةٍ عَلَى أَنَّ الْمُجَيْدَ الْأَعْظَمَ قَد ہو جائیں تو وہ اس بات پر قطعی دلالت کریں گی کہ مجدد اعظم ظَهَرَ، وَالتَّوْرَ النَّازِلَ قَد نَزَلَ وَإلى هذا ظاہر ہو گیا ہے اور نازل ہونے والا نو ر اتر آیا ہے چنانچہ اسی أَشَارَ سُبْحَانَهُ في سُوْرَةِ الْقَدْرِ وَقَالَ إِنَّا کی طرف اللہ سبحانہ نے سورۃ القدر میں اشارہ فرمایا ہے اور انْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ مَا ادريكَ مَا لَيْلَةُ کہا ہے إِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ مَا أَدْراكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ الْفِ شَهْرٍ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَيكَةُ تَنَزَّلُ الْمَلبِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلَمُ هِيَ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلِمٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔اور یہ بات آپ کو معلوم ہے کہ ملائکہ الفجرِ۔وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ اور روح حق لے کر ہی نازل ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی وَالرُّوحَ لَا يَنْزِلُونَ إِلَّا بِالْحَق وَتَعَالَی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ فرشتوں کو عبث اور باطل طور الله عَن أَن يُرْسِلَهُمْ عَبَفًا وَبَاطِلًا پر بھیجے۔پس ارسال روح سے اس مقام پر کسی نبی کے فَإِرْسَالُ الرُّوحِ فَهُنَا إِشَارَةٌ إلى بَعْث مبعوث ہونے یا کسی مرسل اور محدث کے بھیجے جانے کی نبي أو مُرْسَلٍ أَوْ مُحَتَبِ يُلفى ذلِك طرف اشارہ ہے۔یہ روح اس پر ڈالی جاتی ہے اور ارسال الرُّوحُ عَلَيْهِ وَإِرْسَالُ الْمَلائِكَةِ ملائکہ سے نزول ملائکہ کی طرف اشارہ ہے جو لوگوں کو حق ، إِشَارَةٌ إِلى نُزُولِ مَلَائِكَةٍ يَجْذِبُونَ ہدایت اور ثابت قدمی کی طرف لاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ النَّاسَ إِلَى الْحَقِ وَالْهِدَايَةِ وَالثَّبَاتِ قرآن مجید میں ایک اور مقام پر فرماتا ہے اِذْ يُوحَى رَبُّكَ قف