تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 309

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۹ سورة القدر راہیں کھولیں۔سو وہ تمام راہوں کے کھولنے اور تمام پردوں کے اٹھانے میں مشغول رہتے ہیں یہاں تک کہ ظلمت غفلت دور ہو کر صبح ہدایت نمودار ہو جاتی ہے۔فتح اسلام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۲،۳۱) ایک نہایت لطیف نکتہ جو سورۃ القدر کے معانی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس سورۃ میں صاف اور صریح لفظوں میں فرما دیا ہے کہ جس وقت کوئی آسمانی مصلح زمین پر آتا ہے تو اس کے ساتھ فرشتے آسمان سے اتر کر مستعد لوگوں کو حق کی طرف کھینچتے ہیں پس ان آیات کے مفہوم سے یہ جدید فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ اگر سخت ضلالت اور غفلت کے زمانہ میں ایک دفعہ ایک خارق عادت طور پر انسانوں کے قومی میں خود بخود مذہب کی تفتیش کی طرف حرکت پیدا ہونی شروع ہو جائے تو وہ اس بات کی علامت ہوگی کہ کوئی آسمانی مصلح پیدا ہو گیا ہے کیونکہ بغیر روح القدس کے نزول کے وہ حرکت پیدا ہونا ممکن نہیں اور وہ ، حرکت حسب استعداد و طبائع دو قسم کی ہوتی ہے حرکت تامہ اور حرکت ناقصہ۔حرکت تامہ وہ حرکت ہے جو روح میں صفائی اور سادگی بخش کر اور عقل اور فہم کو کافی طور پر تیز کر کے رو بحق کر دیتی ہے۔اور حرکت نا قصہ وہ ہے جو روح القدس کی تحریک سے عقل اور فہم تو کسی قدر تیز ہو جاتا ہے مگر باعث عدم سلامت استعداد کے وہ رو بحق نہیں ہوسکتا بلکہ مصداق اس آیت کا ہو جاتا ہے کہ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا ( البقرة : ١١ ) یعنی عقل اور فہم کے جنبش میں آنے سے پچھلی حالت اُس شخص کی پہلی حالت سے بدتر ہو جاتی ہے جیسا کہ تمام نبیوں کے وقت میں یہی ہوتا رہا کہ جب اُن کے نزول کے ساتھ ملائک کا نزول ہوا تو ملائکہ کی اندرونی تحریک سے ہر یک طبیعت عام طور پر جنبش میں آگئی تب جو لوگ راستی کے فرزند تھے وہ اُن راستبازوں کی طرف کھنچے چلے آئے اور جو شرارت اور شیطان کی ذریت تھے وہ اس تحریک سے خواب غفلت سے جاگ تو اُٹھے اور دینیات کی طرف متوجہ بھی ہو گئے لیکن باعث نقصان استعداد حق کی طرف رُخ نہ کر سکے سوفعل ملائک کا جور بانی مصلح کے ساتھ اُترتے ہیں ہر یک انسان پر ہوتا ہے لیکن اس فعل کا نیکوں پر نیک اثر اور بدوں پر بداثر پڑتا ہے۔باران که در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لاله روید درشوره بوم و خس اور جیسا کہ ہم ابھی اوپر بیان کر چکے ہیں یہ آیت کریمہ فی قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًارَى مختلف طور کے اثر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔یہ بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ ہر نبی کے نزول کے وقت ایک لیلۃ القدر ہوتی ہے جس میں وہ نبی اور