تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 308

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠٨ سورة القدر کے کان کھولتے ہیں اور مردوں میں زندگی کی رُوح پھونکتے ہیں اور اُن کو جو قبروں میں ہیں باہر نکال لاتے ہیں۔تب لوگ یکدفعہ آنکھیں کھولنے لگتے ہیں اور اُن کے دلوں پر وہ باتیں کھلنے لگتی ہیں جو پہلے مخفی تھیں۔اور در حقیقت یہ فرشتے اس خلیفہ اللہ سے الگ نہیں ہوتے اُسی کے چہرہ کا نور اور اُسی کی ہمت کے آثار جلیہ ہوتے ہیں جو اپنی قوت مقناطیسی سے ہر ایک مناسبت رکھنے والے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں خواہ وہ جسمانی طور پر نزدیک ہو یا دُور ہو اور خواہ آشنا ہو یا بکلی بیگانہ اور نام تک بے خبر ہو۔غرض اُس زمانہ میں جو کچھ نیکی کی طرف حرکتیں ہوتی ہیں اور راستی کے قبول کرنے کے لئے جوش پیدا ہوتے ہیں خواوہ جوش ایشیائی لوگوں میں پیدا ہوں یا یورپ کے باشندوں میں یا امریکہ کے رہنے والوں میں وہ در حقیقت انہیں فرشتوں کی تحریک سے جو اس خلیفہ اللہ کے ساتھ اُترتے ہیں ظہور پذیر ہوتے ہیں۔یہ الہی قانون ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔(فتح اسلام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۲، ۱۳ حاشیه ) خدا تعالیٰ سورۃ القدر میں بیان فرماتا ہے بلکہ مومنین کو بشارت دیتا ہے کہ اُس کا کلام اور اس کا نبی لیلتہ القدر میں آسمان سے اُتارا گیا ہے اور ہر ایک مصلح اور مجد د جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ لیلتہ القدر میں ہی اُترتا وہ ہے۔تم سمجھتے ہو کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ لیلتہ القدر اُس ظلمانی زمانہ کا نام ہے جس کی ظلمت کمال کی حد تک پہنچ جاتی ہے اس لئے وہ زمانہ بالطبع تقاضا کرتا ہے کہ ایک نور نازل ہو جو اس ظلمت کو دُور کرے۔اس زمانہ کا نام بطور استعارہ کے لیلتہ القدر رکھا گیا ہے۔مگر در حقیقت یہ رات نہیں ہے۔یہ ایک زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہمرنگ ہے۔نبی کی وفات یا اُس کے روحانی قائم مقام کی وفات کے بعد جب ہزار مہینہ جو بشری عمر کے دور کو قریب الاختتام کرنے والا اور انسانی حواس کے الوداع کی خبر دینے والا ہے گزر جاتا ہے تو یہ رات اپنا رنگ جمانے لگتی ہے۔تب آسمانی کارروائی سے ایک یا کئی مصلحوں کی پوشیدہ طور پر تخم ریزی ہو جاتی ہے جو نئی صدی کے سر پر ظاہر ہونے کے لئے اندر ہی اندر طیار ہو رہتے ہیں اسی کی طرف اللہ جلشانہ اشارہ فرماتا ہے کہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَہیر۔یعنی اس لیلتہ القدر کے نور کو دیکھنے والا اور وقت کے مصلح کی صحبت سے شرف حاصل کرنے والا اس اسی برس کے بڑھے سے اچھا ہے جس نے اس نورانی وقت کو نہیں پایا اور اگر ایک ساعت بھی اس وقت کو پا لیا ہے تو یہ ایک ساعت اس ہزار مہینے سے بہتر ہے جو پہلے گزر چکے۔کیوں بہتر ہے؟ اس لئے کہ اس لیلتہ القدر میں خدا تعالیٰ کے فرشتے اور روح القدس اس مصلح کے ساتھ رب جلیل کے اذن سے آسمان سے اترتے ہیں نہ عبث طور پر بلکہ اس لئے کہ تا مستعد دلوں پر نازل ہوں اور سلامتی کی