تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 294

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا سے جا ملاتے ہیں۔۲۹۴ سورة الم نشرح الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحه ۹،۸) فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْران إن في ذلِك لَبُشْرَى لِكُلِّ مَنْ اس میں ہر تزکیہ اختیار کرنے والے کے لئے بشارت تَزَلَى وَإِشَارَةٌ إِلى أَنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب لوگ ایک زمانہ في زَمَانٍ ضَرًّا وَضَيْرًا، فَيَرَوْنَ في آخر میں دکھ اور تکلیف دیکھیں گے تو بعد میں وہ نفع اور بھلائی بھی نَفْعًا وَخَيْرًا، وَيَرَوْنَ رُخَاءً بَعْدَ بَلاء في دیکھیں گے اور دین و دنیا میں ابتلاء دیکھنے کے بعد خوشحالی کا الدِّينِ وَالدُّنْيَا۔زمانہ بھی دیکھیں گے۔( ترجمہ از مرتب) دود (سر الخلافة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۶۱) خدا تعالیٰ ہمارے مخالف علماء کے حال پر رحم فرمادے کہ وہ جو کار روائی کر رہے ہیں وہ دین کے لئے اچھی نہیں بلکہ نہایت خطرناک ہے۔وہ زمانہ ان کو بھول گیا جب وہ منبروں پر چڑھ چڑھ کر تیرھویں صدی کی مذمت کرتے تھے کہ اس صدی میں اسلام کو سخت نقصان پہنچا ہے اور آیت فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً پڑھ کر اس سے استدلال کیا کرتے تھے کہ اس عسر کے مقابل پر چودھویں صدی یسر کی آئے گی لیکن جب انتظار کرتے کرتے چودھویں صدی آگئی اور معین صدی کے سر پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک شخص بدعویٰ مسیح موعود پیدا ہو گیا اور نشان ظاہر ہوئے اور زمین اور آسمان نے گواہی دی تب اول المنکرین یہی علماء (تحفہ گولر و میه، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۲۷) ( احباب میں سے ایک کو مخالفین کی طرف سے بہت تکالیف پہنچی ہیں۔اس نے اپنا حال عرض کیا۔فرمایا ) آپ نے بہت تکالیف اُٹھائی ہیں یہ بات آپ میں قابل تعریف ہے۔جس قدر ابتلاء ہوا ہے اسی قدر انعام بھی ہوگا۔اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخه ۱۷/فروری ۱۹۰۱ء صفحه ۱۳) ہو گئے۔دود ود قرآن شریف میں جب کہ یہ صاف فرما دیا ہے کہ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يسرا تو کیا ضروری نہ تھا کہ ان تنگیوں کی جن میں آج اسلام مبتلا ہے انتہا ہوتی ؟ اور یسر کی حالت پیدا ہوتی۔بے شک ضرور تھا چنانچہ اس نے ایسا ہی احکم جلد ۵ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۱ صفحه ۱) کیا۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر انسان اعلیٰ مراتب اور مدارج کو حاصل کرنا چاہتا ہے اس قدر اس کو زیادہ