تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 293
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۲۹۳ سورۃ الم نشرح بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسیر سورۃ الم نشرح بیان فرموده سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ الَم نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ فى وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ ) الَّذِي انْقَضَ ظَهْرَكَ 3 وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھولا۔(برائین احمدیہ چہار ص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۶۶ حاشیه در حاشیه نمبر ۴) ہم نے تیر اوہ بوجھ جس نے تیری کمر توڑ دی اتار دیا ہے اور تیرے ذکر کو اونچا کر دیا ہے۔براہینِ احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۱۸ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) رفته رفته صالح انسان ترقی کرتا ہوا مطمعنہ کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور یہاں ہی اس کا انشراح صدر ہوتا ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرما یا الم نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ہم انشراح صدر کی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۱ء صفحه ۲) بغیر امتحان کے تو بات بنتی ہی نہیں اور پھر امتحان بھی ایسا جو کہ کمر توڑنے والا ہو۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑھ کر مشکل امتحان ہوا تھا جیسے فرمایا اللہ تعالی نے وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي الْقَضَ ظهرك۔جب سخت ابتلاء آئیں اور انسان خدا کے لئے صبر کرے تو پھر وہ ابتلاء فرشتوں سے جاملاتے ہیں۔انبیاء اسی واسطے زیادہ محبوب ہوتے ہیں کہ ان پر بڑے بڑے سخت ابتلاء آتے ہیں اور وہ خود ہی ان کو