تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 292
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۲ سورة الضحى غرض صرف یہی ہے کہ تا دوسروں پر اپنی شیخی اور بڑائی کا اظہار کیا جاوے تو بی ریا کاری اور تکبر کے لئے ہوگی اس لئے حرام ہے لیکن اگر کوئی شخص محض اس نیت سے کہ آهَا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَيّت کا عملی اظہار کرے اور مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ پر عمل کرنے کے لئے ، دوسرے لوگوں سے سلوک کرنے کے لئے دے تو یہ حرام نہیں۔پس جب کوئی شخص اس نیت سے تقریب پیدا کرتا ہے اور اس میں معاوضہ ملحوظ نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا غرض ہوتی ہے تو پھر وہ ایک سونہیں خواہ ایک لاکھ کو کھا نا دے منع نہیں۔اصل مدعا نیت پر ہے نیست اگر خراب اور فاسد ہو تو ایک جائز اور حلال فعل کو بھی حرام بنا دیتی ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۳ مورخہ ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۲)