تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 290
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۰ سورة الضحى جھڑک اور فلاں قسم کے سائل کو جھڑک۔پس یا درکھو کہ سائل کو نہ جھڑ کو کیونکہ اس سے ایک قسم کی بداخلاقی کا بیج بویا جاتا ہے۔اخلاق یہی چاہتا ہے کہ سائل پر جلدی ناراض نہ ہو۔یہ شیطان کی خواہش ہے کہ وہ اس طریق سے تم کو نیکی سے محروم رکھے اور بدی کا وارث بناوے۔غور کر کہ ایک نیکی کرنے سے دوسری نیکی پیدا ہوتی ہے اور اسی طرح پر ایک بدی دوسری بدی کا موجب ہو جاتی ہے۔جیسے ایک چیز دوسرے کو جذب کرتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے یہ تجاذب کا مسئلہ ہر فعل میں رکھا ہوا ہے۔پس جب سائل سے نرمی کے ساتھ پیش آئے گا اور اس طرح پر اخلاقی صدقہ دے دے گا تو قبض دور ہو کر دوسری نیکی بھی کرلے گا اور اس کو کچھ دے بھی دے گا۔الحکم جلد ۴ نمبر ۲۵ مورخہ ۹؍ جولائی ۱۹۰۰ صفحه ۲) کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہیں تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وَ أَما السَّابِلَ فَلَا تَنْهَر اور سائل خواہ گھوڑے پر ہی سوار ہو کر آیا ہے پھر بھی واجب نہیں کہ اس کو رد کیا جاوے۔تیرے لئے یہ حکم ہے کہ تو اس کو جھڑک نہیں ہاں خدا نے اس کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ سوال نہ کرے۔وہ اپنی خلاف ورزی کی خود سزا پالے گا لیکن تمہیں یہ مناسب نہیں کہ تم خدا تعالیٰ کے ایک واجب العزت حکم کی نافرمانی کرو۔غرض اس کو کچھ دے دینا چاہیے اگر پاس ہو اور اگر پاس کچھ نہیں تو نرم الفاظ سے اس کو سمجھا دو۔الحکم جلد ۴ نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۰ صفحه ۵) يه عاجز بحكم و أما بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِت اس بات کے اظہار میں کچھ مضائقہ نہیں دیکھتا کہ خداوند کریم ورحیم نے فضل و کرم سے ان تمام امور سے اس عاجز کو حصہ وافرہ دیا ہے اور اس ناکارہ کو خالی ہاتھ نہیں بھیجا اور نہ بغیر نشانوں کے مامور کیا بلکہ یہ تمام نشان دیئے ہیں جو ظاہر ہو رہے ہیں اور ہوں گے اور خدائے تعالیٰ جب تک کھلے طور پر حجت قائم نہ کر لے تب تک ان نشانوں کو ظاہر کرتا جائے گا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۳۹،۳۳۸) ہر ایک نعمت جو خدا سے تجھے پہنچے اس کا ذکر لوگوں کے پاس کر۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۶۶،۳۶۵) عجز و نیاز اور انکسار۔۔۔ضروری شرط عبودیت کی ہے لیکن بحکم آية كريمه وَ أَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَيَّاتُ نعماء الہی کا اظہار بھی از بس ضروری ہے۔( مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۶۶) یا د رکھو کہ انسان کو چاہیے کہ ہر وقت اور ہر حالت میں دعا کا طالب رہے اور دوسرے أَما بِنِعْمَةِ رَبِّكَ