تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 289

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۹ سورة الضحى جادہ اعتدال اور انصاف کو چھوڑ کر اپنے شہوات غضبیہ یا بہیمیہ کا تابع ہو جاوے۔لیکن قرآن کریم میں عشاق کے حق میں بھی آئے ہیں جو خدا تعالیٰ کے راہ میں عشق کی مستی میں اپنے نفس اور اس کے جذبات کو پیروں کے نیچے پھل دیتے ہیں۔اسی کے مطابق حافظ شیرازی کا یہ شعر ہے۔آسمان بار امانت نتوانست کشید قرعہ فال بنام من دیوانه زدند اس دیوانگی سے حافظ صاحب حالت تعشق اور شدت حرص اطاعت مراد لیتے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۷۰ تا ۱۷۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مہدی تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَوَجَدَكَ ضَالاً فَهَدَی۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا مگر حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسی نے ایک یہودی استاد سے تمام توریت پڑھی تھی۔غرض اس لحاظ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی استاد سے نہیں پڑھا خدا آپ ہی استاد ہوا اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو اقرا کہا یعنی پڑھ اور کسی نے نہیں کہا۔اس لئے آپ نے خاص خدا کے زیر تربیت تمام دینی ہدایت پائی اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعہ سے بھی ہوئے۔ایام الصلح، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۹۳، ۳۹۴) الْقَدِيمِ - ضلالت کے یہ بھی معنے ہیں کہ افراط محبت سے ایک شخص کو ایسا اختیار کیا جائے کہ دوسرے کا عزت کے ساتھ نام سننے کی بھی برداشت نہ رہے جیسا کہ اس آیت میں بھی یہی معنے مراد ہیں کہ إِنَّكَ لَفِي ضَلكَ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۶۹ حاشیہ) بعض آدمیوں کی عادت ہوتی ہے کہ سائل کو دیکھ کر چڑ جاتے ہیں اور اگر کچھ مولویت کی رگ ہوتو اس کو بجائے کچھ دینے کے سوال کے مسائل سمجھانا شروع کر دیتے ہیں اور اس پر اپنی مولویت کا رعب بٹھا کر بعض اوقات سخت ست بھی کہہ بیٹھتے ہیں۔افسوس ان لوگوں کو عقل نہیں اور سوچنے کا مادہ نہیں رکھتے جو ایک نیک دل اور سلیم الفطرت انسان کو ملتا ہے۔اتنا نہیں سوچتے کہ سائل اگر باوجود صحت کے سوال کرتا ہے تو وہ خود گناہ کرتا ہے۔اس کو کچھ دینے میں تو گناہ لازم نہیں آتا بلکہ حدیث شریف میں لَوْ آتَاكَ رَا کیا کے الفاظ آئے ہیں یعنی خواہ سائل سوار ہو کر بھی آوے تو بھی کچھ دے دینا چاہیے۔اور قرآن شریف میں وأَما السَّابِلَ فَلَا تنھر کا ارشاد آیا ہے کہ سائل کو مت جھڑک۔اس میں یہ کوئی صراحت نہیں کی گئی کہ فلاں قسم کے سائل کو مت