تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 288
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۸ سورة الضحى ظاہر ہے کہ ضال کے معنے مشہور اور متعارف جو اہل لغت کے منہ پر چڑھے ہوئے ہیں گمراہ کے ہیں جس کے اعتبار سے آیت کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے (اے رسول اللہ) تجھ کو گمراہ پایا اور ہدایت دی۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی گمراہ نہیں ہوئے اور جو شخص مسلمان ہو کر یہ اعتقاد رکھے کہ کبھی آنحضرت صلعم نے اپنی عمر میں ضلالت کا عمل کیا تھا تو وہ کا فر بے دین اور حد شرعی کے لائق ہے بلکہ آیت کے اس جگہ وہ معنی لینے چاہیے جو آیت کے سیاق اور سباق سے ملتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے پہلے آنحضرت صلعم کی نسبت فرمایا اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيماً فَأوَى وَوَجَدَكَ ضَالاً فَهَدَى وَوَجَدَكَ عَايلا فاطنی۔یعنی خدا تعالیٰ نے تجھے یتیم اور بیکس پایا اور اپنے پاس جگہ دی اور تجھ کو ضال ( یعنی عاشق وجہ اللہ ) پایا پس اپنی طرف کھینچ لایا اور تجھے درویش یا یا پس فغنی کر دیا۔ان معنوں کی صحت پر یہ ڈیل کی آیتیں قرینہ ہیں جو ان کے بعد آتی ہیں یعنی یہ کہ فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرُ وَأَمَّا السَّابِلَ فَلَا تَنْهَرُ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِثُ - کیونکہ یہ تمام آیتیں لف نشر مرتب کے طور پر ہیں اور پہلی آیتوں میں جو مدعا مخفی ہے دوسری آیتیں اس کی تفصیل اور تصریح کرتی ہیں مثلاً پہلے فرمایا اَلَم يَجِدُكَ يَتِيمًا فَأَوى اس کے مقابل پر یہ فرما یا فَامَّا الْيَتِيم فلا تقهر یعنی یاد کر کہ تو بھی یتیم تھا اور ہم نے تجھ کو پناہ دی ایسا ہی تو بھی یتیموں کو پناہ دے۔پھر بعد اس آیت کے فرمایا وَ وَجَدَكَ ضَالاً فَصلی اِس کے مقابل پر یہ فرمایا وَ اَمَّا السَّابِلَ فَلَا تَنْهَرُ یعنی یاد کر کہ تو بھی ہمارے وصال اور جمال کا سائل اور ہمارے حقائق اور معارف کا طالب تھا سو جیسا کہ ہم نے باپ کی جگہ ہو کر تیری جسمانی پرورش کی ایسا ہی ہم نے استاد کی جگہ ہو کر تمام دروازے علوم کے تجھ پر کھول دیئے اور اپنے لقا کا شربت سب سے زیادہ عطا فرمایا اور جو تو نے مانگا سب ہم نے تجھ کو دیا سو تو بھی مانگنے والوں کو ر دمت کر اور ان کو مت جھڑک اور یاد کر کہ تو عائل تھا اور تیری معیشت کے ظاہری اسباب بکلی منقطع تھے سوخدا خود تیرا متوئی ہوا اور غیروں کی طرف حاجت لے جانے سے تجھے غنی کر دیا۔نہ تو والد کا محتاج ہوا نہ والدہ کا نہ استاد کا اور نہ کسی غیر کی طرف حاجت لے جانے کا بلکہ یہ سارے کام تیرے خدا تعالیٰ نے آپ ہی کر دیئے اور پیدا ہوتے ہی اس نے تجھ کو آپ سنبھال لیا۔سو اس کا شکر بجالا اور حاجت مندوں سے تو بھی ایسا ہی معاملہ کر۔اب ان تمام آیات کا مقابلہ کر کے صاف طور پر کھلتا ہے کہ اس جگہ ضال کے معنے گمراہ نہیں ہے بلکہ انتہائی درجہ کے تعشق کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ حضرت یعقوب کی نسبت اس کے مناسب یہ آیت ہے إِنَّكَ لَفِی ضَلِكَ القديم - (یوسف :۹۲) سو یہ دونوں لفظ ظلم اور ضلالت اگر چہ ان معنوں پر بھی آتے ہیں کہ کوئی شخص